ماتلی،نامعلوم شخص کی نعش برآمد
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (نمائندہ جسارت) ماتلی میںٹنڈو غلام علی بائی پاس روڈ کے قریب 40 سالہ نامعلوم شخص کی خون میں لت پت لاش برآمد ہوئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مذکورہ شخص کو کسی نامعلوم گاڑی نے ٹکر ماری، جس کے بعد ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا، جبکہ شدید چوٹوں کے باعث وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ماتلی پولیس موقع پر پہنچی اور ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش کو ایدھی رضا کاروں کی مدد سے تعلقہ اسپتال منتقل کیا۔ایدھی ذرائع کے مطابق متوفی کی شناخت کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اگر اس کی شناخت نہ ہو سکی یا ورثا سامنے نہ آئے تو لاش کو لاوارث قرار دے کر تدفین کر دی جائے گی۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ماتلی، قدیم جنرل بس اسٹینڈ نئے تنازع کی زد میں آگیا
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (نمائندہ جسارت)ماتلی کا 41 سال پرانا جنرل بس اسٹینڈ ایک نئے تنازعے کی زد میں آگیا ہے، اور باخبر ذرائع کے مطابق اس اہم عوامی اثاثے کو منتقل کرنے کی تیاریاں خاموشی سے جاری ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ شہر کے دو بااثر گروہ پسِ پردہ اس اسٹینڈ کی منتقلی اور اس کے بعد زمین کے کمرشل استعمال کے منصوبے ترتیب دے رہے ہیں۔پس منظر: عوامی اثاثہ کیسے حاصل ہوا تھا؟1984ء میں سابق بلدیاتی قیادت نے میونسپلٹی کی تین دکانیں فروخت کر کے ڈیڑھ ایکڑ اراضی خریدی جس پر موجودہ جنرل بس اسٹینڈ تعمیر کیا گیا۔ اْس وقت اس مقام کو شہری ضروریات اور ٹرانسپورٹ کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منتخب کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق: ڈرائنگ روم بیٹھکوں میں مستقبل کے فیصلے تیار تحقیقی مواد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دو بااثر شخصیات اور ان کے گروہ اپنے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر اسٹینڈ کی منتقلی کے منصوبے ترتیب دے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقصد ’’بہتری‘‘ نہیں بلکہ ’’بہتر موقع‘‘ ہے—یعنی شہر کے وسط میں واقع اس قیمتی اراضی کو کمرشل بنانے کی راہ ہموار کرنا۔اصل خدشہ: زمین خالی کروا کر کمرشل منصوبہ کھڑا کیا جائے گا۔میونسپل حدود میں سرکاری زمین نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جبکہ کئی ایکڑ اراضی پہلے ہی قبضہ گروہوں کے زیرِ استعمال ہے۔ ایسے میں بس اسٹینڈ کی یہ زمین سرمایہ دار عناصر کے لیے انتہائی پرکشش ثابت ہو رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کے وسط میں شاپنگ سینٹرز اور کمرشل پلازہ تعمیر کرنا آج کل منافع بخش کاروبار ہے، اس لیے خدشہ ہے کہ بس اسٹینڈ کی منتقلی کے بعد یہاں بھی اسی نوع کے منصوبے کی راہ ہموار کی جائے گی۔معاشی اثرات: سینکڑوں افراد کے روزگار کو خطرہ موجودہ مقام پر درجنوں دکاندار، ٹھیلے والے، گاڑیوں کے عملے اور دیگر کاروباری افراد اپنی روزی روٹی اس اسٹینڈ سے وابستہ رکھتے ہیں۔اگر اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا توموجودہ علاقہ غیر فعال ہو جائے گادرجنوں کاروبار بند ہو جائیں گے سیکڑوں افراد بے روزگار ہوں گے اس کے برعکس، بس اسٹینڈ جہاں منتقل ہوگا وہاں معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی—اور اس کا فائدہ وہی لوگ اٹھائیں گے جن کے پاس نئی جگہ کا زمینی اختیار ہوگا۔ماضی کی مثالیں: وٹنری اسپتال کی طرح ایک اور عوامی سہولت خطرے میں110 سال پرانا وٹنری اسپتال جس طرح خاموشی سے ماتلی سے غائب کیا گیا۔