ایئربس 320 میں سافٹ ویئر خرابی، دنیا بھر میں ہزاروں طیارے گراؤنڈ ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سعید احمد: دنیا بھر میں ایئربس 320 طیاروں کو نئے تکنیکی مسائل کا سامنا ہے، جہاں حال ہی میں سامنے آنے والی سافٹ ویئر خرابی کے باعث ہزاروں طیارے گراؤنڈ ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
عالمی ایوی ایشن حلقوں کے مطابق ایئربس کمپنی نے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے تمام ایئرلائنز کو سافٹ ویئر کا پرانا ورژن فوری طور پر دوبارہ لوڈ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ایئربس 320 طیاروں میں انسٹال کیے گئے نئے سافٹ ویئر میں دورانِ پرواز متعدد طیاروں میں خرابی رپورٹ ہوئی، جبکہ شمسی تابکاری کے اثرات سے سافٹ ویئر متاثر ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ کمپنی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس خرابی سے دنیا بھر کے تقریباً 6 ہزار طیارے متاثر ہوسکتے ہیں۔
طیاروں کے سافٹ ویئر میں سنگین خرابی، عالمی پروازیں معطل
یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (EASA) نے بھی ہنگامی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے ایئربس کو مذکورہ طیاروں کو فوری طور پر گراؤنڈ کرنے کی ہدایت دی ہے، تاکہ سافٹ ویئر سے متعلق کسی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق پاکستان میں بھی ایئربس 320 طیاروں کا فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے، تاہم پی آئی اے کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ ادارے کے کسی بھی طیارے میں متاثرہ سافٹ ویئر ورژن انسٹال نہیں کیا گیا، اس لیے قومی ائر لائن کا آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے۔
اقرار الحسن وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں؟ شاید میں سیکنڈ لیڈی بن جاؤں: فراح اقرار
ایئربس نے واضح کیا ہے کہ حال ہی میں ریلیز کیا گیا نیا سافٹ ویئر ورژن 104 دورانِ پرواز غیر معمولی رویہ دکھا رہا تھا، جس کے بعد تمام ایئرلائنز سے اسے ہٹا کر پرانا محفوظ ورژن لوڈ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سافٹ ویئر ایئربس 320
پڑھیں:
دنیا کے 61 ممالک میں 21 ہزار 647 پاکستانی قید ہونے کا انکشاف
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ مختلف 61 ممالک میں اس وقت 21 ہزار 647 پاکستانی قید ہیں۔
ہم نیوز کے مطابق ایڈیشنل سیکریٹری وزارت داخلہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایک پڑوسی ملک نے پاکستان کے نظام میں مداخلت کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر پاسپورٹس بنوائے۔ اس معاملے میں کرپشن کے امکانات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اور غلطی ہماری اپنی سسٹمز میں بھی موجود رہی ہوگی۔
چیئر پرسن کمیٹی ثمینہ ممتاز نے انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اس معاملے پر مناسب آگاہی نہ ملنے کے باعث بڑی تعداد میں لوگ غیر قانونی راستوں سے بیرون ملک جانے کے خطرناک نتائج سے ناواقف ہیں۔ایئرپورٹس پر آگاہی بینرز نہ ہونا بھی ایک سنگین غفلت ہے۔
ٹرائی نیشن سیریز، سری لنکا نے پاکستان کو جیت کیلئے 185 رنز کا ہدف دے دیا
انہوں نے نشاندہی کی کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ ملک کے اندر سے کام کر رہے ہیں اور نوجوانوں کو مختلف جھانسوں میں پھنسا کر بیرون ملک بھیجتے ہیں۔ جعلی ڈگریاں، جعلی کورسز اور نشہ اسمگلنگ جیسے جرائم میں بھی کئی بے خبر افراد کو استعمال کیا جاتا ہے۔
ثمینہ ممتاز نے مطالبہ کیا کہ ایران میں سخت سزاؤں کے بعد وہاں قید پاکستانیوں کی تازہ تعداد اور حکومتی آگاہی مہمات کے بارے میں کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی جائے۔
سیکریٹری وزارت داخلہ نے اجلاس کو بتایا کہ چند ماہ قبل سعودی عرب سے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا، جن میں کئی افغان شہری بھی پاکستانی شناخت کے ساتھ مقیم تھے۔
عمران خان پاکستانی تاریخ کے سب سے وی آئی پی قیدی ہیں، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری
انہوں نے کہا کہ اب 18 سے 20 کروڑ پاکستانیوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ موجود ہے اور شناخت کی تصدیق فوری طور پر ممکن ہے۔ بیرون ملک گرفتار پاکستانیوں کی اکثریت معمولی نوعیت کے جرائم جیسے اوور اسٹے، شناختی فراڈ یا بینک فراڈ میں ملوث ہوتی ہے، جبکہ سنگین جرائم جیسے قتل، دہشت گردی یا منظم جرائم میں پاکستانیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
سیکریٹری کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر وزیراعظم کی ہدایت پر مختلف ممالک کے دورے کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے گجرات، وزیرآباد، شیخوپورہ اور لاہور سمیت کئی اضلاع سے انسانی اسمگلنگ کے منظم نیٹ ورک سامنے آئے ہیں، جن کے کارندے دبئی اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک میں بھی سرگرم ہیں۔
لاہور میں ڈاکو بے لگام،فیکٹری ملازمین کو رسیوں سے باندھ کر ایک کروڑ روپے مالیت کا سامان لوٹ کر فرار
ان کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلرز معصوم نوجوانوں کو یورپ پہنچانے کے بہانے 43 سے 50 لاکھ روپے تک وصول کرتے ہیں اور پھر انہیں خطرناک اور غیر قانونی راستوں پر ڈال دیتے ہیں۔ متعدد پاکستانیوں کو 6 سے 8 ماہ تک جبری مشقت اور غیر انسانی حالات میں رکھا جاتا ہے، جو ایک تشویشناک اور سنگین صورتحال ہے۔
مزید :