امریکا کی غلامی سے نجات کا سنہری موقع
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بظاہر یہ خبر پریشان کن ہے مگر حقیقت میں پاکستان کے لیے خوشخبری ہے۔ دیکھنے میں سونے جیسی چمک مگر اندر سے کھوکھلا کوئلہ ہے۔ یہ اس ڈھول کی مانند ہے جو دور سے خوش نْما سنائی دیتا ہے مگر قریب جا کر کان پھاڑ دیتا ہے۔ یہ خبر دراصل پاکستان کی امریکا کی غلامی سے آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے اور شاید امریکی استعمار کے تابوت میں آخری کیل بھی۔ خبر یہ ہے کہ بھارت اور امریکا نے ایک پرانے دفاعی معاہدے کی تجدید کر دی ہے۔ بظاہر یہ قدم پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھا جا رہا ہے مگر دراصل یہ خبر پاکستان کے حق میں ہے۔ اس لیے کہ اب ہمارے حکمرانوں کے لیے یہ عذر باقی نہیں رہا کہ امریکا ہمارا دوست ہے۔31 اکتوبر 2025 کو امریکا اور بھارت کے درمیان دس سالہ دفاعی فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوئے۔ بظاہر یہ پرانے معاہدے کی تجدید ہے مگر حقیقتاً اس میں کئی نئی اور خطرناک شقیں شامل کی گئی ہیں جن کا مقصد امریکا کے اْس پرانے خواب کو حقیقت میں بدلنا ہے کہ بھارت کو خطے کا علاقائی طاقت کا مرکز بنایا جائے اور چین کے مقابل اسے آگے رکھا جائے۔ امریکا کا مقصد واضح ہے۔ وہ طاقت کے توازن کو بھارت کے حق میں جھکانا چاہتا ہے۔ ایک طرف وہ جمہوریت اور امن کے نعرے لگاتا ہے اور دوسری طرف اسلحے کی تجارت، تزویراتی قبضہ اور مفاد پرستی کی سیاست کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور دشمنوں کی پہچان نئے سرے سے کرے کیونکہ جب دوستی دھوکے میں بدلے تو غلامی کا رشتہ خود بخود ٹوٹ جاتا ہے۔
یہ معاہدہ سب سے پہلے 2005 میں طے پایا تھا جب امریکا نے بھارت کو قدرتی اتحادی قرار دیا۔ 2015 میں اس کی تجدید ہوئی اور اب 2025 میں اسے مزید وسعت دے کر دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد بھارت اور امریکا کے درمیان کئی ذیلی معاہدے طے پائے جن میں لیموآ (LEMOA)، کامکاسا (COMCASA) اور بیکا (BECA) شامل ہیں۔ لیموآ کے تحت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے فوجی اڈوں اور رسد تک رسائی حاصل ہے۔ کامکاسا محفوظ مواصلاتی نظام کے ذریعے خفیہ معلومات کے تبادلے کی اجازت دیتا ہے۔ بیکا کے ذریعے جغرافیائی معلومات اور سیٹلائٹ ڈیٹا کے اشتراک کو ممکن بنایا گیا۔ اب 2025 کی اس تجدید میں مزید چند حساس اور خطرناک شقیں شامل کی گئی ہیں۔
خلائی اور سائبر دفاع میں تعاون کو بڑھایا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور ڈرون جنگ کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے علاقے میں ایک بحری نگرانی کا مشترکہ نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے بھارت کو سمندری نگرانی اور معلوماتی برتری حاصل ہوگی۔ معلومات کے تبادلے کو براہِ راست نظام تک وسعت دی گئی ہے اور ہم خیال ممالک یعنی سری لنکا، بنگلا دیش اور مالدیپ میں دفاعی تربیت اور امداد کے منصوبے بھارت کے ذریعے چلانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا اعلان ہیں کہ امریکا نے بھارت کو خطے میں اپنا سیکورٹی منیجر بنا دیا ہے۔ گویا واشنگٹن نے اپنی پالیسی کو بدلنے کے بجائے صرف کردار بدل دیے ہیں۔ پہلے پاکستان کو فرنٹ لائن اتحادی بنا کر استعمال کیا گیا، اب بھارت کو علاقائی نگہبان کا لقب دے دیا گیا ہے۔
پاکستان کے لیے اس معاہدے کے کئی منفی اثرات ہوں گے۔ بھارت کو معلوماتی برتری حاصل ہو جائے گی اور وہ امریکی سیٹلائٹ، خفیہ نظام اور ڈیٹا کے تبادلے کے ذریعے پاکستان کی عسکری اور بحری سرگرمیوں پر گہری نظر رکھ سکے گا۔ سائبر اور الیکٹرونک جنگ کے میدان میں بھارت کی بڑھتی مہارت مستقبل میں پاکستان کے دفاعی نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ مگر اس خبر کا ایک پہلو خوش آئند بھی ہے۔ یہ معاہدہ پاکستانی عوام کو یہ باور کرائے گا کہ اب امریکی غلامی کا وقت گزر چکا ہے۔ قوم کے جذبات اب کسی مغربی طاقت کی خوشنودی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہر سروے بتا رہا ہے کہ پاکستانی عوام امریکا کی پالیسیوں سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ ان کے دلوں پر 1971 کی جنگ کا زخم ابھی تازہ ہے جب کہا گیا تھا کہ امریکی ساتواں بحری بیڑا پہنچنے والا ہے مگر وہ بیڑا کبھی نہ آیا۔
کارگل کے موقع پر امریکا نے پاکستان کو تحمل کا درس دیا مگر بھارت کا ساتھ دیا۔ ایٹمی دھماکوں کے وقت پاکستان کو پابندیوں کی دھمکیاں دیں اور بھارت کے لیے خاموش اجازت دی۔ کشمیر کے مسئلے پر ہمیشہ مذاکرات کا مشورہ دیا مگر بھارتی مظالم پر آنکھیں بند رکھیں۔ غزہ کے معصوم بچوں پر بم برس رہے ہیں اور امریکا آج بھی اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ یہ تمام واقعات ایک ہی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا کبھی کسی قوم کا دوست نہیں رہا بلکہ صرف اپنے مفاد کا غلام ہے۔ پاکستان کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حقیقی قوت خود انحصاری، خودداری اور باوقار خارجہ پالیسی میں ہے نہ کہ واشنگٹن کے احکامات میں۔
امریکا اور بھارت کا یہ دفاعی فریم ورک بظاہر تعاون کا اعلان ہے مگر درحقیقت ایک نیا استعماری جال ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ بھارت پولیس مین بنے اور باقی خطہ اس کے زیر ِ سایہ رہے۔ پاکستان کے لیے اب یہی لمحہ فیصلہ کن ہے کہ وہ اس غلامی کے دائرے سے نکل کر خود مختاری کے نئے سفر کا آغاز کرے۔ قوم جاگ چکی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے حکمران بھی جاگنے کو تیار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کے لیے پاکستان کو امریکا نے بھارت کے بھارت کو کے ذریعے دیتا ہے ہے مگر گیا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم