Jasarat News:
2026-07-24@14:37:25 GMT

اپنے ہی بارے میں شک کرنا سکھاتا ہوا سوشل میڈیا

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT

اپنے ہی بارے میں شک کرنا سکھاتا ہوا سوشل میڈیا

ماہرین کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا انسانی ذہن پر اثر اس قدر بڑھ چکا ہے کہ بہت سی عمومی نفسی پیچیدگیاں اب انتہائی خطرناک شکل اختیار کرتی جارہی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا سے بہت زیادہ مستفید ہونا دراصل اپنے وجود کو اُن کے ہاتھوں گروی رکھنے کے مترادف ہے۔

انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے ہاتھوں طرح طرح کی نفسی الجھنیں جنم لے رہی ہیں۔ بہت سے لوگ سوشل میڈیا دیکھتے رہنے کو بھی بہت بڑی کامیابی سمجھنے لگے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص دن رات کرکٹ کے مقابلے دیکھے اور پھر اپنے آپ کو بھی کرکٹر سمجھنے لگے یا کامیاب و مالدار افراد کے بارے میں جانتے جانتے کوئی خود کو بھی بہت زیادہ مالدار تصور کرنے لگے۔

سوشل میڈیا ذہنوں میں منفی تصورات کو بھی نہ صرف جنم بلکہ بڑھاوا دے رہا ہے۔ نئی نسل شدید منفی رجحانات کی حامل ہوتی جارہی ہے۔ بہت سے نوجوان دن رات سوشل میڈیا دیکھتے رہنے کے نتیجے میں اپنی تعلیم، کریئر اور فیملی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے پاتے اور پھر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اُن میں شاید کوئی کمی ہے یا پھر لوگ اُنہیں نظر انداز کرنے لگے ہیں۔

نفسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا سے بہت زیادہ مستفید ہونے والوں میں آج کل امپوسٹر سنڈروم پروان چڑھ رہا ہے۔ اس نفسی عارضے میں مبتلا افراد اپنے ہی وجود پر شک کرنے لگتے ہیں، اُن کے اعتماد کی سطح گرنے لگتی ہے اور اُن کے ذہنوں میں یہ تصور پروان چڑھنے لگتا ہے کہ انہوں نے جو بھی کامیابی حاصل کی ہے اُس کے لیے دوسروں کو دھوکا دیا ہے، اُن کا حق مارا ہے جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہوتا۔

انڈیا ٹوڈے میں شایع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق دنیا بھر میں ایسے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو سوشل میڈیا کے زیرِاثر کسی بھی ٹھوس وجہ کے بغیر خوش یا ناخوش رہتے ہیں، منفی سوچتے ہیں، اُداسی اور بیزاری کے گھیرے میں رہتے ہیں، اپنی صلاحیت و سکت اور کردار پر شک کرتے ہیں اور اپنی کامیابیوں کا بھرپور کریڈٹ لینے کے بجائے اُن کے بارے میں شرمندگی سی محسوس کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کو بھی

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • زندگی کا مقصد
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ