بھارت‘ ملازمت کا جھانسا دیکر لڑکی سے رکشے میں اجتماعی زیادتی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست اترپردیش میں رکشہ ڈرائیور نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر 20 سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ کانپور شہر میں پیش آیا، لڑکی تکلیف دہ حالت میں جیسے تیسے گھر پہنچی اور ایل خانہ کو خود پر گزرنے والی قیامت کے بارے میں بتایا۔اہل خانہ متاثرہ بیٹی کو تھانے لے کر گئے۔ 20 سالہ لڑکی نے بتایا کہ
میں ملازمت کی تلاش میں تھی تاکہ اپنے والدین کا ہاتھ بانٹ سکوں۔متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ ایک انٹرویو کے لیے گئی لیکن نوکری نہیں ملی توآٹو ڈرائیور دیپک کشواہا نے کہا کہ کل آنا میں تمہیں ملازمت دلوا دوں گا۔اجتماعی جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی نے مزید بتایا کہ جب میں رکشہ ڈرائیور کے پاس گئی تو اس نے ایک اور شخص سے ملوایا کہ ان کے پاس جاب ہے،متاثرہ لڑکی نے مزید بتایا کہ رکشہ ڈرائیور اور اس کا ساتھی مجھے ویران جگہ لے گئے اور زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔پولیس نے مقدمہ درج کرکے رکشہ ڈرائیو دیپک کشواہا اور اس کے دوست سورج کشواہا کو گرفتار کرلیا۔ ملزمان نے جنسی زیادتی کا اعتراف بھی کرلیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
کراچی کی قدیم لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران وہاں سے پرانے مجسمے دریافت ہوئے ہیں۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں واقعی لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثار قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔انہوں نے بتایا کہ لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران 2 قدیم طرز کے مجسمے برآمد ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ لی مارکیٹ میں سے ملنے والی اشیا کی ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے جانچ کرائی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ دریافت ہونے والے مجسموں کی عمر اور تاریخی اہمیت کا تعین ماہرین کریں گے۔مرضی وہاب نے بتایا کہ تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے دریافت ہونے والی اشیا کی مکمل دستاویزات اورریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔میئر کراچی کا کہنا تھا کہ لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران دریافت ہونے والی اشیا کو محفوظ کرلیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کے ایم سی شہر کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور لی مارکیٹ سے ملنے والی اشیا کا سائنسی معائنہ کرایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ تاریخی نوعیت کی دریافت پر لی مارکیٹ میں مزید کھدائی احتیاط سے کی جا رہی ہے۔