جامعہ بنوریہ میں طلبہ کیلیے ’’ذہنی ترقی‘‘ کے موضوع پر ورکشاپس
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر)بین الاقوامی دینی درسگاہ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے زیر اہتمام اور فوکس وژن آئی ٹی حب کے تعاون سے مدارسِ دینیہ کے طلبہ کے لیے “نیکسٹ جنریشن اے آئی کے ذریعے ذہنی ترقی” کے موضوع پر ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم ڈاکٹر مولانا نعمان نعیم،کوآرڈینیٹر پرائم منسٹر یوتھ پروگرام سندھ فہد شفیق،نائب رئیس جامعہ بنوریہ شیخ فرحان نعیم، بانی، فوکس وژن آئی ٹی ہب ‘ چیئرمین فوکس گروپ اسد الحق، جی ایم پی ٹی وی امجد شاہ، میونسپل کارپوریشن ساتھ حماد این ڈی خان، صدر تابانی گروپ عبد الرف تابانی، با‘ فوکس وژن آئی ٹی ہب ‘چیئرمین فوکس گروپ،اسد الحق، ڈائریکٹر کلی الحدیث بنوریہ ڈاکٹر محمد سروادہ (یوگنڈا) ایم ڈی ضامن گروپ سروت نسیم شاہ، بانی اے ائی گلوبل گروپ عمارہ آفتاب،شام فلمز کے بانی شمعون عباسی، فرازحسین، موٹیشنل اسپیکر حورین غوری سمیت دیگر شریک تھے۔ مقررین نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ترقی، اس کے فوائد، اور پاکستان میں اس کے استعمال کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کی مہارت مستقبل کی تعلیمی، معاشی، اور سماجی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ جامعہ بنوریہ کا اے آئی کے میدان میں قدم اٹھانا دیگر تعلیمی اداروں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا،یہ اقدام نہ صرف طلبہ کی مہارتوں کو عالمی سطح پر لے جائے گا بلکہ پاکستان کی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جامعہ بنوریہ
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک