کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جنوری2025ء)کراچی میں کرپٹو کرنسی ڈیلر کو اغوا کرکے اس کے اکانٹ سے 3 لاکھ 40 ہزار ڈالرز ٹرانسفر کرانے والے ملزمان سے تحقیقاتی ٹیم نے ایک کروڑ سے زائد رقم اور ایک پرتعیش کار برآمد کرلی۔تفصیلات کے مطابق کرپٹو کرنسی ڈیلر کے اغوا سے متعلق کیس کی سماعت کراچی میں کلفٹن کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی۔

دوران سماعت تحقیقاتی افسر نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں گرفتار ملزمان بشمول 2 سی ٹی ڈی اہلکاروں، نے چوری شدہ رقم کو ایک بینک منتقل کیا اور بعد میں اس سے ایک پرتعیش گاڑی سیڈان (مرسڈیز بینز)خریدی جسے برآمد کرلیا گیا۔سی ٹی ڈی کانسٹیبلز علی سجاد اور محمد عمر کے ہمراہ ملزمان حارث اشعر، محمد رضوان شاہ، نعمان رفت، طارق حسن شاہ، مزمل رضا اور عمر جیلانی کو کلفٹن کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کے سامنے ریمانڈ میں توسیع کے لیے پیش کیا گیا۔

(جاری ہے)

تحقیقاتی افسر نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے چوری شدہ رقم سے خریدی گئی مرسڈیز بینز اور ملزمان سے رقم برآمد کی۔انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ شکایت کنندہ ارسلان ملک نے جوڈیشل مجسٹریٹ غربی کی عدالت میں 2 ملزمان کی شناخت کی اور ان کی جرم کی نوعیت کے حوالے سے تفصیلات فراہم کی۔عدالت میں تحقیقاتی افسر نے ملزمان سے مزید تفتیش کے لیے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی تاکہ مفرور ملزمان جن میں ہماد، زمان، مزمل، علی رضا، رشید لودھی اور دیگر شامل ہیں، کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔

بعد ازاں عدالت نے تحقیقاتی افسر کی استدعا سننے کے بعد ملزمان کا مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔بعد ازاں ایک پریس ریلیز کے مطابق ملزمان کو پکڑنے کے لیے تشکیل کردہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی)کی تحقیقاتی ٹیم نے کرپٹو کرنسی ڈیلر کو اغوا کرکے اس کے اکاؤنٹ سے 3 لاکھ 40 ہزار ڈالرز ٹرانسفر کرنے والے ملزمان سے پرائز بانڈ کی مد میں تقریبا 9 لاکھ روپے اور ایک مرسڈیز گاڑی برآمد کرلی۔

فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر)کے مطابق کرپٹو کرنسی ڈیلر کو 25 دسمبر کی رات ایک بج کر 40 منٹ پر سادہ کپڑوں میں ملبوس 5 افراد نے اغوا کیا تھا، ملزمان بغیر نمبر پلیٹ کی پولیس وین میں ڈیلر کو ایف آئی اے صدر آفس کے قریب لائے تھے جہاں پر ان کے اکاؤنٹ سے زبردستی پیسے ٹرانسفر کیے گئے تھے۔پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ملزمان نے ڈیلر کا موبائل فون ری سیٹ کیا اور اسے مزار قائد کے قریب پھینک کر فرار ہوگئے جس کے بعد 8 ملزمان کو ڈیلر کے اغوا اور رقم منتقلی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تحقیقاتی افسر ڈیلر کو

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا