Daily Ausaf:
2026-07-24@15:27:13 GMT

امام اہلسنت حضرت مفتی احمدالرحمن نوراللہ مرقدہ

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT

اپنے محسنوں کی یاد منانا زندہ قوموں کا شیوہ رہا ہے، جو قوم اپنے محسنوں کو بھول جائے زمانہ اسے اپنی ٹھوکروں پہ رکھ لیا کرتاہے ،ان کا شمار بھی اس قوم کے محسنوں میں ہوتا ہے،وہ چونکہ خود بھی صوفی باصفا عالم باعمل اور دین اسلام کے سچے سپوت تھے،اس لئے ان کے عہد اہتمام میں ان کے جامعہ سے پڑھ کر نکلنے والے اسلامی اسکالرز اور علماء نے علم کی دولت بانٹنے کے ساتھ ساتھ دنیا کو حریت و آزادی کے نغمے بھی سنائے ،وہ جامعہ بنوری ٹائون کے ایسے جرات و غیرت والے مہتمم بالشان تھے کہ ان کے بعد ان جیسا نہ دیکھا اور نہ ہی سنا،ان کی وفات کو 33 برس بیت گئے ، لیکن 33 برس قبل انہوں نے مجھ جیسے گہنگار پر جو شفقتیں فرمائیں، وہ آج بھی مجھے یاد ہیں وہ علم و تصوف اور جہاد کا حسین امتزاج تھے، ہزاروں علماء کے استاد اور مجاہدین کے روحانی باپ تھے ، انسانیت کا درد رکھنے والے امام اہلسنت مفتی احمد الرحمن نور اللہ مرقدہ کے حوالے سے ان کے فرزند ارجمند عزیزم مفتی حذیفہ رحمانی نے بالکل درست لکھا کہ ’’حضرت مفتی احمد الرحمن کی پیدائش 6 رجب کی اور وفات 14 رجب کی ہے، یہ آٹھ روز کا سفر ان کا مظاہرالعلوم سہارنپور کے علمی اور روحانی مرکز سے شروع ہوکر 52 سال کے بعد عالم اسلام کے بین الاقوامی مرکز جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون میں ناناجان محدث العصر علامہ سید محمددیوسف بنوری نوراللہ مرقدہ کے ’’حیاومیتا‘‘ جانشین کے خطاب کے ساتھ ایسا اختتام پذیر ہوا کہ تاقیامت اپنے شیخ و مربی کے پہلو میں ان کو محواستراحت کردیا۔‘‘
حضرت یوسف بنوری ؒکی دوراندیش نظر و فراست نے نوجوانی میں ان کی صلاحیتوں کو پہچان کر ان کو اپنا جانشین بنایا، پھر دنیا نے مدرسہ عربیہ اسلامیہ کو جامعہ علوم الاسلامیہ اور نیوٹائون کوعلامہ بنوری ٹائون بنتے دیکھا اور اب دنیا اس ادارے کو جامع العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹائون کے نام سے تاقیامت یاد کرے گی۔چودہ سال کے قلیل عرصے میں ’’مدرسہ عربیہ اسلامیہ‘‘ جہاں’’جامعہ علوم اسلامیہ‘‘ کے نام سے تمام دینی علوم اور تحریکات کا عالمی مرکز بنا، وہیں پاکستان اور بیرون کے سینکڑوں مدارس و مکاتب کے وجود میں آنے کا ذریعہ بن گیا، یہ سب حضرت بنوریؒ کے اخلاص کا ثمرہ اور ان کی نظر فراست کا نتیجہ ہے، 14 رجب المرجب 1411ھ اکتیس جنوری 1991ء کا دن مفتی احمد الرحمن کی رحلت کی خبر غم لئے طلوع ہوا، ہر فرد اس ناگہانی خبر سے غم میں ڈوب ڈوب چکا تھا، کوئی اس خبر کو جھٹلانا چاہ رہا تھا، لیکن قضا آ چکی تھی، فیصلہ ہو چکا تھا، وہ دن والد صاحب کی میت حتیٰ کہ قبر میں اترتے دیکھ کر بھی ایک سات سال کے بچے کے لئے چھٹی کے دن اور ایک ایونٹ کے سوا کچھ نہ تھا، جو یتیم ہونے کو مطلب نہیں سمجھتا تھا، لیکن گزرتے وقت نے اس کو سارے معانی سمجھا دئیے کہ باپ بچھڑ جانا اور سر سے اس کے سایہ کے اٹھ جانے کا مطلب تپتی دھوپ، چبھتے کانٹوں اور اندھیرے راستوں کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن اللہ کی بھی اپنی شان ہے، اس نے والد مرحوم کی دعائوں کا ثمرہ ہمیں عطا فرمایا۔ والد صاحب اپنے شیخ و سسر حضرت المحدث البنوریؒ کے حکم پر جب سب کچھ قربان کردیتے ہیں اور دنیا بے سروسامانی کے عالم میں رخصت ہوتے ہیں تو یہ صرف ان کے لئے دنیا و آخرت کے سرخروئی ہی کا باعث نہیں بنا بلکہ ان کی اولاد کی دینی تعلیم و تربیت کا باعث بنا، فللہ الحمد، مفتی احمد الرحمنؒ ، حضرت حکیم الامت ؒکے خلیفہ اجل، تلمیذ شیخ الہند و سہارنپوری حضرت مولانا عبدالرحمن کاملپوریؒ کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور سہارنپور میں 6 رجب 1358ھ مطابق 22 اگست 1939ء کو پیدائش ہوئی۔ ابتدائی تعلیم وہاں اور پھر تقسیم کے بعد دادا جان کی سرپرستی میں خیر المدارس اور تعلیم القرآن راولپنڈی میں رہی اور 1958-59ء میں تکمیل و تخصص کے لئے حضرت اقدس عبد الرحمن کاملپوری نے کراچی حضرت بنوریؒ کے پاس بھیجا تو فرمایا کہ اپنا بیٹا آپ کے سپرد کر رہا ہوں اور حضرت بنوریؒ نے جب والد صاحب کو دامادی کے لئے چنا تو مولانا کا ملپوریؒ کے پاس گئے اور فرمایا کہ لوگ بیٹی لینے آتے ہیں، میں بیٹا لینے آیا ہوں۔
مفتی احمد الرحمن پر اپنے استاذ و شیخ کا بہت اثر تھا اور ان کی عقیدت، محبت اور احترام کا اندازہ کچھ احوال و واقعات سے لگایا جا سکتا ہے۔حذیفہ رحمانی لکھتے ہیں کہ والد اور والدہ دونوں پشتو گھرانے سے تھے، لیکن شادی تک والدہ صاحبہؒ کو پشتو نہیں آتی تھی، فرماتی تھیں کہ میرے سامنے کوئی پشتو میں بات کرتا تو مجھے سکتہ سا ہوجاتا، اسی بنا پر نانا جان حضرت بنوریؒ نے والد صاحب سے فرمایا کہ اس کے ساتھ اردو میں بات کرنا، اس کو پشتو نہیں آتی، بعد میں والدہ صاحبہ کو پشتو آبھی گئی، لیکن عام انداز و لہجے میں بطور مشورہ شیخ و استاذ کے منہ سے نکلی بات کو تادم مرگ، حکم سمجھ کر اپنے لئے باعثِ سعادت سمجھا اور بعد میں والدہ صاحبہ کو پشتو آجانے کے باوجود ان کے ساتھ پشتو میں بات نہیں کی۔شیخ کی محبت اور عقیدت تھی کہ چھوٹے ماموں جان جامعہ کے موجودہ مہتمم استاذ حضرت سید سلیمان بنوری دامت برکاتہم العالیہ کی تکمیل قرآن مجید کی ایسی عظیم الشان تقریب والد صاحب نے منعقد کی کہ جامعہ میں نہ اس سے پہلے کسی کے لئے ایسی تقریب ہوئی اور نہ شائد آئندہ ہوسکے اور والد صاحب کا خوشی سے تمتماتا چہرہ ان کے حوالے سے میری چند یاد داشتوں میں آج بھی محفوظ ہے۔
حضرت یوسف بنوریؒ نے کبار اساتذہ و مشائخ سے مشاورت اور استخارہ کر کے مفتی احمد الرحمن کو جب اپنا جانشین مقرر کیا تو ساتھ ہی یہ حکم بھی تحریر فرمایا کہ آپ کو سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنی ہوگی، والد صاحب نے شیخ کے حکم کی تعمیل میں سب کچھ چھوڑ کر جامعہ کے لئے جو اس وقت مدرسہ عربیہ اسلامیہ تھا، اپنے آپ کو وقف کردیا، پھر یہ مدرسہ عربیہ اسلامیہ جامعہ علوم اسلامیہ میں عالمی مرکز بن کر ابھرا اور جب کچھ بدخواہوں کو نام و نسبتِ بنوری سے چِڑ ہونے لگی تو والد صاحب نے نہ صرف علاقے کا نام نیو ٹائون سے علامہ محمد یوسف بنوری ٹائون کروایا بلکہ پوری دنیا میں اس نام و نسبت سے مراکز دینیہ کا قیام فرما کر شیخ کے نام کو چار دانگ عالم میں پھیلا دیا۔جامعہ کے ناظم تعلیمات حضرت مولانا امداد اللہ یوسفزئی دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ سواد اعظم تحریک میں باوجود بڑے بڑے نامور علماء و صلحاء کے مفتی صاحب ؒ جیسی کوئی ایسی شخصیت نہ تھی جن پر سب کے سب متفق ہوتے، اسی لئے متفقہ طور پر علماء کی طرف سے حضرت مفتی صاحب کو امام اہلسنت کے لقب سے نوازا گیا تھا مولانا عزیز الرحمن رحمانی جو حضرت مفتی احمد الرحمن کے بڑے صاحبزادے اور جانشین ہیں، کو مفتی احمد الرحمنؒ نے وفات سے تقریباً ایک ہفتہ قبل جو وصیت فرمائی میں سے ایک کا ذکر اس لئے ضروری ہے تاکہ آج کے ماحول میں دین کا کام کرنے والے بھی اس سے نصیحت حاصل کر سکیں، فرمایا کہ ’’دین کا کام کرنا چاہتے ہو تو اختلافات سے بچ کر کام کرنا، تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اختلافات میں الجھ کر دین کی محنت کماحقہ نہیں ہو پاتی‘‘ اللہ تعالیٰ حضرت رحمہ اللہ کے درجات بلند فرمائے ان کی قبر کو روضۃ من ریاض الجنہ بنائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: مدرسہ عربیہ اسلامیہ بنوری ٹائون جامعہ علوم حضرت مفتی والد صاحب کے ساتھ کو پشتو کے لئے

پڑھیں:

راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل

راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار  کرلیا۔

پولیس کے مطابق  بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے  کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔

والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو  بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔

پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان  کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت