گلوکار جواد احمد نے بجلی چوری کا الزام مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
لاہور:
برابری پارٹی کے چیئرمین جواد احمد نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران اپنے اوپر لگنے والے بجلی چوری کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔
رپورٹ کے مطابق جواد احمد نے کہا کہ وہ گھر پر تھے جب ان کی اہلیہ نے سیلون سے کال کی اور بتایا کہ کچھ افراد سروے کے نام پر میٹر چیک کر رہے ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ گرین میٹر اتار لیا گیا ہے، جو شہری کی ذاتی ملکیت ہوتا ہے۔
جواد احمد کے مطابق، ان کے علاقے میں چوریوں کے پیش نظر میٹر کو جنگلے میں بند کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میٹر کی جانچ کیے بغیر اسے بجلی چوری کا الزام لگا کر لے جایا گیا، جس پر انہیں غصہ آیا۔ جواد احمد نے کہا کہ وہ خود پولیس کے پاس گئے اور لیسکو حکام سے بات کی۔
انہوں نے ان الزامات کو پروپیگنڈا قرار دیا اور کہا کہ ان کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرین میٹر سے بجلی چوری ممکن نہیں۔ جواد احمد نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جواد احمد نے بجلی چوری
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان