ویڈیو ایڈیٹنگ ہو ئی اور بھی آ سان ،انسٹا گرام صارفین کیلئے اچھی خبر آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
انسٹا گرام کی جانب سے ایڈٹس نامی ایک ایپ متعارف کرائی گئی ہے جو ویڈیوز ایڈیٹنگ میں مدد فراہم کرے گی۔
تھریڈز پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے انسٹا گرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے بتایا کہ ایڈیٹس متعدد ٹولز پر مشتمل مفت ویڈیو ایڈیٹنگ ایپ ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس میں ایک ٹیب انسپائریشن کے لیے مختص ہے جبکہ دوسری ٹیب ابتدائی خیالات کی ٹریکنگ کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایپ کا معیاری کیمرا اچھی ویڈیوز ریکارڈ کرتا ہے اور وہاں آپ کو تمام ایڈیٹنگ ٹولز بھی دستیاب ہوتے ہیں۔
ایڈم موسیری کے مطابق یہ ایپ فروری میں صارفین کو دستیاب ہوگی، اس وقت یہ آئی او ایس ایپ اسٹور میں پری آرڈر پر دستیاب ہے جبکہ جلد اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے بھی دستیاب ہوگی۔ایڈم موسیری نے بتایا کہ ایپ کا پہلا ورژن نامکمل ہوگا اور صارفین کو کچھ تحمل سے کام لینا ہوگا۔
اس ایپ میں صارفین 10 منٹ طویل ویڈیو ریکارڈ کرسکیں گے جس کے بعد اسے مختلف ٹولز سے ایڈٹ کرسکیں گے جبکہ مختلف فلٹرز اور ایفیکٹس بھی دستیاب ہوں گے۔بیک گراؤنڈ نوائز ہٹانے کے لیے آڈیو فیچر جبکہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) فیچرز بھی ایپ کا حصہ بنائے جائیں گے۔
ایڈم موسیری نے ٹک ٹاک کا واضح حوالہ تو نہیں دیا مگر اس ویڈیو شیئرنگ ایپ پر پابندی پر ڈھکے چھپے الفاظ میں بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں اس وقت بہت کچھ ہو رہا ہے اور ہماری ایپ صرف انسٹا گرام ویڈیوز کے لیے نہیں بلکہ دیگر پلیٹ فارمز کے لیے بھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایڈم موسیری انسٹا گرام کے لیے
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ