وزیرِ اعظم شہباز شریف— فائل فوٹو

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ غزہ میں بحالی اور تعمیرِ نو کے عمل کے لیے پاکستان اپنا کردار ادا کرے گا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ میں 50 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا گیا، شہید ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں فلسطینیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور انفرا اسٹرکچر کو تباہ کیا گیا، غزہ میں جنگ بندی کے لیے بھرپور آواز اٹھائی اور امدادی سامان بھی بجھوایا، غزہ میں بہت خونریزی کے بعد جنگ بندی ہوئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ کل گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا افتتاح ہوا، یہ بہت خوش آئند بات ہے، گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا شمار ملک کے بڑے ہوائی اڈوں میں ہوتا ہے۔

9 مئی کے معاملے پر اگر ظلم ہی کرنا ہے تو مذاکرات کا کیا فائدہ ہے، عارف علوی

کراچی: سابق صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ 9 مئی کے معاملے پر اگر ظلم ہی کرنا ہے تو مذاکرات کا کیا فائدہ ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ گوادر ایئر پورٹ سے پاکستان کی معیشت کو فائدہ ہوگا، عالمی بینک کے ساتھ شراکت داری کا فیصلہ کیا ہے، آئی ٹی ایکسپورٹس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے جامع پروگرام کا آغاز کیا، چین کی طرف سے 230 ملین ڈالر گرانٹ سے نیو گوادر ایئرپورٹ مکمل ہوا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بے امنی پھیلانے والے بلوچستان کے بھی خیر خواہ نہیں، قتل و غارت کا بازار گرم کرنے والے پاکستان کے صریحاً دشمن ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ ملک دشمن نہیں چاہتے کہ گوادر بندرگاہ فعال ہو، فتنہ الخوارج کے خلاف دی جانے والی قربانیوں کا قرض نہیں اتار سکتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: شہباز شریف نے کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف