پولیو کیسز کی شرح نیچے آ رہی ہے، پارلیمانی سیکریٹری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پولیو سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر پارلیمانی سیکریٹری نیلسن عظیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پولیو کیسز کی شرح نیچے آ رہی ہے، دسمبر میں پولیو کے 16 کیسز تھے اس ماہ کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے امین الحق نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد کے سوا ہر جگہ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، پولیو ٹیموں کی حفاظت کو یقینی بنانے کام کرنا چاہیے۔
امین الحق نے کہا کہ سیکیورٹی کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی بنتی ہے۔ سندھ پر بات کرنے سے منع نہ کریں یہ زیادتی ہے، پولیو ورکرز کی حفاظت کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔
خیبر پختونخوا سے رکن قومی اسمبلی مبارک زیب نے کہا کہ کوئی بھی ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں، پی ٹی آئی والے کہہ رہے ہیں مبارک زیب ہماری وجہ سے یہاں آیا۔
انھوں نے کہا پی ٹی آئی والوں کو شرم آنی چاہیے، میں اپنے بھائی کی وجہ سے ایوان میں آیا۔ مبارک زیب نے کہا یہ بچوں جیسی حرکتیں کرتے ہیں، ریحان زیب کے قاتل آزاد گھوم رہے ہیں۔
مبارک زیب نے آئی جی خیبر پختونخوا، وزیر داخلہ اور وزیر اعظم سے تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔