قومی اسمبلی اجلاس کے ایک دن کا خرچ کتنا؟ بڑا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
پی ٹی آئی رہنما بیرسٹرگوہرکی پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوکہا کہ پارلیمنٹ کے ہر اجلاس پر ساڑھے 6 کروڑ خرچ ہوتےہیں۔
پی ٹی آئی رہنما بیرسٹرگوہرکاکہنا ہے کہ احتجاج اپوزیشن کا حق ہےبھارت میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے،میں نے کہیں بھی میڈیا ٹاک میں بات نہیں کی کہ ہماری سیاسی ملاقات ہوئی ہے،ہماری ملاقات امن وامان کے حوالےسے ہوئی ہے،خواجہ آصف کو ٹوئٹ میں بھی یہی کہا ہےکہ اس کو بھول جائیں،مذاکرات کو ہونےدیں، کوشش کرنی چاہیے کمیٹیوں کےمذاکرات کامیاب ہوں۔
مزیدکہا کہ ہمارے پاس نہ صحت کے پیسے ہیں نہ تعلیم کیلئےکوئی رقم ہے،غربت،بیروزگاری کا عالم یہ ہے کہ لوگ بیرون ملک جا رہےہیں،آئے روزکشتیاں الٹنے کے واقعات ہو رہےہیں،ایسےمیں ہم اپنی تنخواہیں کیوں بڑھائیں؟۔دوسری جانب قومی اسمبلی اراکین کی تنخواہ میں 200فیصد تک اضافےکی تجویز سامنے آئی ہے، اراکین موجودہ تنخواہ 1لاکھ 68ہزار کےلگ بھگ ہے، قومی اسمبلی سے اراکین کی تنخواہوں میں اضافے کا بل منظور کروایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔