فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے افسران کو ایک ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی فراہمی کے معاملے پر وزیر خزانہ حمایت میں سامنے آگئے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے ایف بی آر میں گاڑیوں کی خریداری کے معاملے پر قائمہ کمیٹی سینیٹ کے خط پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں ایف بی آر افسران کو ہدف میں ناکامی پر 6 ارب کی گاڑیاں دی جارہی ہیں، فیصل واوڈا

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایف بی آر حکام کو گاڑیاں فراہم کرنا ضروری ہے، تاہم اس بات کو یقینی بنایا جائےگا کہ خریداری کا عمل شفاف ہو۔

انہوں نے کہاکہ ٹیکس وصولی بہتر کرنے کے لیے افسران کو فیلڈ میں جانا پڑےگا، یہ کام دفاتر میں بیٹھ کر نہیں ہوسکتا، اس لیے گاڑیوں کی خریداری ضروری ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہاکہ گاڑیاں فراہم کرنے والی تمام کمپنیاں پاکستانی ہیں، کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائےگی۔

واضح رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے ایف بی آر افسران کو گاڑیوں کی خریداری روکنے کے لیے وزیر خزانہ کو خط لکھا تھا۔

انہوں نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گاڑیوں کی خریداری کے عمل میں شفافیت پر سمجھوتا کیا گیا، اس لیے آرڈر کینسل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایف بی آر کو ایک ہزار سے زائد گاڑیاں خریدنے سے روک دیا

خط میں مزید کہا گیا تھا کہ 1010 گاڑیاں خریدنے پر سینیٹ کمیٹی کو تحفظات ہیں۔ ممبران نے سوال اٹھایا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری کے لیے اوپن بڈنگ کیوں نہیں ہوئی۔ اس لیے ضروری ہے کہ خریداری کا عمل شفاف ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ایف بی آر سینیٹ کمیٹی فیڈرل بورڈ آف ریونیو قائمہ کمیٹی خزانہ گاڑیوں کی خریداری محمد اورنگزیب وفاقی وزیر خزانہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ر سینیٹ کمیٹی فیڈرل بورڈ ا ف ریونیو قائمہ کمیٹی خزانہ گاڑیوں کی خریداری محمد اورنگزیب وفاقی وزیر خزانہ وی نیوز گاڑیوں کی خریداری قائمہ کمیٹی ایف بی ا ر افسران کو کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پیٹرولیم قیمتوں کا روزانہ تعین، سینیٹ قائمہ کمیٹی نے وضاحت طلب کر لی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا