Express News:
2026-07-24@16:02:52 GMT

پاکستان امریکی مارکیٹ میں رسائی کی کوشش کرنے لگا

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2025 GMT

پاکستان امریکی مارکیٹ میں رسائی کی کوشش کرنے لگا، اعلیٰ آفیشلز کے دورے میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی 2 نئی ٹیموں سمیت مستقبل میں میچز کرانے کی راہیں تلاش کی جانے لگیں۔ 

تفصیلات کے مطابق امریکا میں کرکٹ کا کھیل تارکین وطن ایشیائی باشندوں کی بڑی تعداد کے سبب تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے، گزشتہ برس آئی سی سی کی جانب سے ورلڈکپ کا بھی انعقاد کیا گیا تھا، نیویارک میں پاک بھارت مقابلہ شائقین سے کھچا کھچ بھرے میدان میں ہوا۔

ذرائع نے بتایا کہ پی ایس ایل کے سربراہ سلمان نصیر ان دنوں امریکا کے مختلف شہروں کا دورہ کر رہے ہیں، چیئرمین محسن نقوی بطور ملکی وزیر داخلہ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلیے وہاں گئے تھے، دونوں پاکستانی آفیشلز نے کرکٹ کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔

مزید پڑھیں: سرفراز اور روسو کی جگہ کون لے گا؟ گلیڈی ایٹرز کو نیا کپتان مل گیا

ذرائع کے مطابق امریکی کرکٹ لیگ میں بیشتر ٹیم مالکان بھارتی ہیں، کرکٹ ایسوسی ایشن کا بھی یہی حال ہے، ایسے میں پاکستان کیلیے وہاں جلد قدم جمانا آسان نہ ہوگا، البتہ بڑی مارکیٹ کو تنہا بھارت کیلیے چھوڑ دینا بھی مناسب نہیں، اسی لیے پی سی بی مختلف راہیں تلاش کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل 10 میں شامل غیر ملکی کھلاڑیوں کی موجیں، پی سی بی الگ سے کتنی رقم ادا کرے گا؟

پی ایس ایل سیزن 11 میں 2 نئی ٹیمیں بھی شامل ہوں گی، امریکی کرکٹ میں متحرک 2 پاکستانی شخصیات ٹیمیں خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہیں، ان کے ساتھ بھی بات چیت ہو گی، ان میں سے کوئی ایک ٹیم لے سکتا ہے، ملکی کرکٹ کے ایک اہم اسٹیک ہولڈر کو بھی ٹیم خریدنے میں دلچسپی ہے، وقت آنے پر اس حوالے سے دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آئے گا، اسی طرح بورڈ کی خواہش ہے کہ مسقبل میں پی ایس ایل کے بعض میچز کا انعقاد بھی امریکا میں کرایا جائے، اس حوالے سے بھی آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل میں اسٹارز فرنچائزز کی جیب پر بوجھ نہیں بنیں گے، مگر کیسے؟

ذرائع نے بتایا کہ یہ دورہ محض آغاز ہے، راتوں رات کچھ ممکن نہیں، البتہ پی سی بی نے امریکی کرکٹ میں انٹری کی کوشش ضرور شروع کر دی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • ایشین گیمز کرکٹ : پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست کوارٹر فائنل میں رسائی مل گئی
  • سٹاک مارکیٹ میں مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ