آئی ایل ٹی 20 سیزن 3 میں بہت اچھا ٹیلنٹ سامنے آرہا ہے، وقار یونس
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
دبئی : دبئی کے ایلیس کلب میں آئی ایل ٹی 20 سیزن 3 کے موقع پر منعقدہ ایوارڈ یافتہ ایلز کلب میں معروف کمنٹیٹرز اور کرکٹ کے عظیم کھلاڑیوں وقت گزارا۔
گزشتہ ایڈیشنز کے دوران ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20 گالف ڈے یواے ای میں ایک ماہ تک جاری رہنے والے کرکٹ فیسٹیول کے دوران کیلنڈر کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے جس سے کرکٹرز کو خوبصورت کورس سے لطف اندوز ہونے اور کلبزکے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا شاندار موقع ملتا ہے۔
گالف ڈے کے موقع پر دبئی کیپیٹلز کے آئی ایل ٹی 20 کرکٹرز بین ڈنک، گلین چیپل، ایڈم روسنگٹن، برینڈن میک مولن، اسکاٹ کوگلین اور بیٹنگ کوچ ایان بیل نے شرکت کی۔ گلف ڈے کی تقریب میں گلف جائنٹس کے اسٹار جیمز ونس، باؤلنگ کوچ اوٹس گبسن، ٹام کوہلر کیڈمور، ٹم سیفرٹ، شارجہ واریئرز کے جیسن رائے اور مائیکل جونز اور ڈیزرٹ وائپرز کے ایڈم ہوز بھی شریک ہوئے۔
کمنٹیٹرز اور پریزینٹرز میں وقار یونس، سائمن ڈول، نکھل چوپڑا، عروج ممتاز خان، ایلن ولکنز اور لورا میک گولڈرک شامل تھے جبکہ میچ آفیشلز پال ولسن، امپائر مارٹن سیگرز اور آئی ایل ٹی 20 کے سی ای او ڈیوڈ وائٹ بھی موجود تھے۔
آئی ایل ٹی 20 کمنٹری پینل میں شامل لیجنڈری پاکستانی فاسٹ بولر وقار یونس نے ایلس کلب میں اپنے تجربے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ سابق کرکٹرز اور موجودہ کرکٹرز اور کمنٹیٹرز کے ساتھ نائن ہول کھیلنے میں بہت مزہ آیا۔ گالف ڈے کی منصوبہ بندی اچھی طرح سے کی گئی تھی اور یہ ٹورنامنٹ کے وسط میں سب کے لئے ایک اچھا وقفہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ آئی ایل ٹی 20 سیزن 3 میں کچھ بہت اچھے ٹیلنٹ کو نکھرتے دیکھ رہے ہیں یہ ایک بہت اچھا ٹورنامنٹ ہے اور نوجوانوں خاص کر یواے ای کے نوجوان کرکٹرز کو بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ فرحان خان ایک دلچسپ کھلاڑی ہیں، وہ صرف 18 سال کے ہیں اور ان کا مستقبل اچھا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔