سیمنٹ کی قیمت میں کمی کر دی گئی،کاروباری حضرات کیلئے اچھی خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان میں سیمنٹ کی قیمت کم ہوگئی، شمالی خطے میں سیمنٹ کے تھیلے کی قیمت تقریباً 1387 روپے ہے۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری کے پہلے پندرہ روز میں سیمنٹ کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 23 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے کے لیے شمالی علاقے میں سیمنٹ کے تھیلے کی اوسط خوردہ قیمت 1387 روپے رہی جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 0.
جنوبی علاقے میں قیمت مستحکم رہی، سیمنٹ کے تھیلے کی اوسط خوردہ قیمت 1,384-1385 روپے ریکارڈ کی گئی جو پچھلے ہفتے کی طرح تھی۔اعداد و شمار نے مختلف شہروں میں قیمتیں مختلف ظاہر کیں، اسلام آباد میں اوسط قیمت 1364 روپے، راولپنڈی میں 1344 روپے اور لاہور میں سب سے زیادہ قیمت 1450 روپے ریکارڈ کی گئی۔
فیصل آباد میں 1410 روپے، سرگودھا میں 1393 روپے اور ملتان میں 1391 روپے۔ کراچی میں قیمت 1339 روپے رہی، دوسرے شہروں جیسے حیدرآباد، سکھر، اور کوئٹہ میں بھی مختلف شرح ریکارڈ کی گئی۔اگرچہ سیمنٹ کی قیمت میں کمی سے صارفین کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے لیکن ملک بھر میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا رجحان مختلف خطوں پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔
ہفتے میں 3 چھٹیاں، 4 روز کام، ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ریکارڈ کی گئی سیمنٹ کی کی قیمت
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔