اسلام ٹائمز: جلسہ عطائے اسناد سے خطاب میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر سرحدوں کے ساتھ معاشی استحکام کے لئے کام کررہے ہیں، سعودی عرب، ترکیہ، چائنا اور دیگر ممالک کی مزید سرمایہ کاری جلد آئے گی، سرمایہ کاری کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کے لئے بھرپور کام کئے جارہے ہیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

گورنر ہاؤس سندھ میں وفاقی اردو یونیورسٹی کا کانووکیشن، گورنر کامران ٹیسوری کا خطاب

گورنر ہاؤس سندھ میں وفاقی اردو یونیورسٹی کا کانووکیشن، گورنر کامران ٹیسوری کا خطاب

گورنر ہاؤس سندھ میں وفاقی اردو یونیورسٹی کا کانووکیشن، گورنر کامران ٹیسوری کا خطاب

گورنر ہاؤس سندھ میں وفاقی اردو یونیورسٹی کا کانووکیشن، گورنر کامران ٹیسوری کا خطاب

گورنر ہاؤس سندھ میں وفاقی اردو یونیورسٹی کا کانووکیشن، گورنر کامران ٹیسوری کا خطاب

گورنر ہاؤس سندھ میں وفاقی اردو یونیورسٹی کا کانووکیشن، گورنر کامران ٹیسوری کا خطاب

گورنر ہاؤس سندھ میں وفاقی اردو یونیورسٹی کا کانووکیشن، گورنر کامران ٹیسوری کا خطاب

گورنر ہاؤس سندھ میں وفاقی اردو یونیورسٹی کا کانووکیشن، گارنر کامران ٹیسوری کا خطاب

گورنر ہاؤس سندھ میں وفاقی اردو یونیورسٹی کا کانووکیشن، گورنر کامران ٹیسوری کا خطاب

گورنر ہاؤس سندھ میں وفاقی اردو یونیورسٹی کا کانووکیشن، گورنر کامران ٹیسوری کا خطاب

گورنر ہاؤس سندھ میں وفاقی اردو یونیورسٹی کا کانووکیشن، گورنر کامران ٹیسوری کا خطاب

اسلام ٹائمز۔ گورنرہاؤس سندھ میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے جلسہ عطائے اسناد کا انعقاد ہوا۔ وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری و دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر اراکین سینٹ، اساتذہ کرام، طلبہ و طالبات اور ان کے والدین بھی موجود تھے۔ جلسہ عطائے اسناد سے خطاب میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ تمام فارغ التحصیل طلباء کو مبارک باد دیتا ہوں، آج فخر اور خوشی کا دن ہے کہ ہم سب طلبہ کی کامیابیوں کا خیر مقدم کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر سرحدوں کے ساتھ معاشی استحکام کے لئے کام کررہے ہیں، ون ونڈو آپریشن نہیں تھا تو ایس آئی ایف سی منصوبہ تشکیل دیا، ایس آئی ایف سی منصوبہ بیرونی سرمایہ کاری کو یہاں لائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ، چائنا اور دیگر ممالک کی مزید سرمایہ کاری جلد آئے گی، سرمایہ کاری کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کے لئے بھرپور کام کئے جارہے ہیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گورنر کامران ٹیسوری کا خطاب سرمایہ کاری کے لئے

پڑھیں:

جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔

معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت