’’ویل ڈن پاکستان کے رونالڈو‘‘ فیصل واوڈا نے مزید اچھی خبروں کی نوید سنادی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
اسلام آباد:
سینیٹر فیصل واوڈا نے مزید اچھی خبروں کا اشارہ دیتے ہوئے اپنے پیغام میں لکھا ہے ’’ویل ڈن پاکستان کے رونالڈو‘‘
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ آج پاکستان کے لیے مزیدٹھنڈی، مثبت اور خیبر کی ہوائیں بیرون ملک سے چلتی ہوئی پاکستان میں داخل ہورہی ہیں۔
یہ خبر بھی پڑھیں: بتایا تھا ٹرمپ کارڈ کی پاکستان کے لیے مثبت ہوائیں چلیں گی، پی ٹی آئی کو مایوسی ہوگی، فیصل واوڈا
انہوں نے کہا کہ یہ ابتدا ہے پاکستان کی کامیابیوں اور بلندیوں کی۔ ان شا اللہ یہ ہوائیں اب چلتی رہیں گی، ویلڈن پاکستان کےرونالڈو۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی اپنے پیغام میں فیصل واوڈا نے کہا تھا کہ میں نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ 28 جنوری 2025 کو پاکستان کے لیے ٹرمپ کارڈ کی بہتر اور مثبت ہوائیں چلیں گی اور پی ٹی آئی کو ان کے ٹرمپ کارڈ پر مایوسی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیصل واوڈا نے پاکستان کے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔