نومبر ختم ہونے سے پہلے 27 ویں آئینی ترمیم پاس ہو جائے گی، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر فیصل واؤڈا کا کہنا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم نومبر کے اختتام سے پہلے پاس ہو جائے گی۔انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کا ہم انتظار کر رہے ہیں، پاکستان کے لیے مثبت کام ہو رہا ہے۔
فیصل واؤڈا نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 243 میں تبدیلیاں ممکن ہیں، پاکستان کے وسیع تر مفاد کے لیے دیکھا جا رہا ہے کہ کیسے ڈیفنس لائن کو مضبوط کیا جائے۔ان کا کہنا ہے کہ اب جنگیں صرف ہوا میں، زمین پر یا سمندر میں نہیں ہوتیں، پاکستان کی ڈیفنس لائن جتنی آج مضبوط ہے ہم چاہتے ہیں اسے اور مضبوط کیا جائے۔سینیٹر فیصل واؤڈا نے یہ بھی کہا ہے کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم رول بیک کی جا رہی ہے، ایسا کچھ نہیں ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عرفان ملک رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف گلاسگو کے پاکستان میں انٹرنیشنل ایڈوائزر تعینات
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ویں ا ئینی ترمیم
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔