مریم نواز نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی تکمیل کیلئے ڈیڈ لائن دے دی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
راولپنڈی:
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کو درکار فنڈز کی فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے تکمیل کے لیے ڈیڈ لائن دے دی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے راولپنڈی رنگ روڈ کا اچانک دورہ کیا جہاں انہوں نے منصوبے کا دائرہ بڑھانے کی ہدایت کردی۔
مریم نواز نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ دسمبر تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی اور منصوبے کا فضائی جائزہ بھی لیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کو خصالحہ خورد راولپنڈی رنگ روڈ کیمپ آفس آمد پر کمشنر راولپنڈی ڈویژن عامر خٹک نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
مریم نواز نے کہا کہ 38 کلومیٹر سے زائد طویل راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی تکمیل سے ٹریفک کا دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور اس منصوبے کی تکمیل سے معاشی اور کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ راولپنڈی رنگ روڈ کی تکمیل سے لاکھوں شہریوں کو سفر میں آسانی ملے گی، منصوبے کی تکمیل کے لیے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
منصوبے کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ بانٹھ، چک بیلی خان، اڈیالہ روڈ، چکری روڈ اور ٹھلیاں کے مقام پر پانچ انٹر چینج تعمیر ہوں گے، راولپنڈی رنگ روڈ پر ریلوے پل اور 5 اوورپاسز بنائے جائیں گے اور 21 سب وے ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منصوبے کی تکمیل
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘