امریکی مسافر طیارے اور ہیلی کاپٹر میں تصادم ، 28 لاشیں نکال لی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
ملبے سے 28 لاشیں نکال لی گئیں
امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کی شب ایک مسافر طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان ہونے والے تصادم میں کسی شخص کے زندہ بچنے کا امکان نہیں رہا۔
جمعرات کی صبح ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر پریس کانفرنس میں واشنگٹن ڈی سی کے ایمرجنسی سروسز کے سربراہ جان ڈونیلی نے بتایا کہ حکام کو ہیلی کاپٹر اور جہاز کا ملبہ مل گیا ہے اور جہاز کے ملبے سے اب تک 27 لاشیں جب کہ ہیلی کاپٹر سے ایک شخص کی لاش نکالی جا چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کسی بھی شخص کے زندہ بچنے کے امکانات ختم ہونے کے بعد ریسکیو آپریشن، ریکوری آپریشن میں تبدیل ہو گیا ہے۔
واشنگٹن طیارہ حادثہ: لاشیں نکالنے کا عمل جاری واشنگٹن: طیارہ حادثے کے بعد ایئر پورٹ پر کیا صورتِ حال ہے؟
No media source now available
حکام کا رونلڈ ریگن ایئرپورٹ دن 11 بجے کھولنے کا اعلانواشنگٹن ایئر پورٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) جیک پوٹر کا کہنا ہے کہ رونلڈ ریگن ایئر پورٹ کو امریکی وقت کے مطابق دن 11 بجے کھول دیا جائے گا۔
بدھ کی شب حادثے کے بعد ایئر پورٹ کو تمام پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
مزید لوڈ کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ہیلی کاپٹر ایئر پورٹ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔