وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے آکسفورڈ یونین میں ہونے والے ایک تاریخی مکالمے میں شاندار فتح حاصل کی، جہاں انہوں نے 180 کے مقابلے میں 145 ووٹوں سے لبرل جمہوریت کے عالمی جنوب میں ناکامی کے خلاف اپنا مؤقف کامیابی سے منوایا۔

اس اہم عالمی فورم پر، جسے علمی اور فکری مباحث کے حوالے سے ایک منفرد مقام حاصل ہے،وزیر منصوبہ بندی نے ترقی پذیر ممالک کے حقوق اور عالمی انصاف کے لیے ایک مضبوط اور مدلل مقدمہ پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں: قومی پیداواریت، معیار اور جدت سمٹ 2024 کا انعقاد، احسن اقبال کا افتتاحی خطاب

وزیر منصوبہ بندی کو آکسفورڈ یونین کے صدر اسرار کاکڑ کی دعوت پر اس مکالمے میں شرکت کا موقع ملا، جہاں انہوں نے اپنی پُراثر تقریر میں یہ واضح کیا کہ لبرل جمہوریت، جسے آزادی، مساوات اور ترقی کے سنہری خواب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حقیقت میں عالمی جنوب کے لیے ناانصافی، غربت، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بدحالی کا سبب بنی ہے۔

 انہوں نے نشاندہی کی کہ جن ممالک نے لبرل جمہوریت کا نعرہ بلند کیا، وہی آج انتہا پسندی، نفرت اور عدم مساوات کا شکار ہو رہے ہیں۔

احسن اقبال نے مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں خطے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں لیکن وہی عالمی طاقتیں جو خود کو انسانی حقوق کا چیمپئن کہتی ہیں، یہاں کی مظلوم عوام پر ہونے والے مظالم پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہم نے ماضی میں ڈالر بھی بڑے کمائے لیکن ملک کی اپنی صلاحیت نہیں بڑھائی، احسن اقبال

انہوں نے کہا کہ اگر لبرل جمہوریت واقعی انصاف، آزادی اور خودمختاری کا نظام ہوتا تو آج کشمیر اور فلسطین کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جو عالمی نظام بنایا گیا تھا، وہ درحقیقت عالمی جنوب کو بااختیار بنانے کے لیے نہیں بلکہ اسے مغربی طاقتوں کے کنٹرول میں رکھنے کے لیے تھا۔

وفاقی وزیر نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہا گیا کہ لبرل جمہوریت کی فتح ہوگئی ہے اور اب دنیا میں آزادی و ترقی کا دور شروع ہوگا، مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ عالمی جنوب میں سیاسی عدم استحکام بڑھا، معیشتیں زوال پذیر ہوئیں اور طاقتور ممالک نے ترقی پذیر اقوام کو قرضوں اور معاہدوں کے جال میں جکڑ کر انہیں مزید پسماندگی کی طرف دھکیل دیا۔

یہ بھی پڑھیں: لرننگ فیسٹیول کو ٹرین کے ذریعے ہر ضلع میں لے جائیں، احسن اقبال کی وزارت تعلیم کو تجویز

احسن اقبال نے عالمی مالیاتی نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے جیسن ہیکل کی کتاب دی ڈیوائیڈ کا حوالہ دیا، جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی جنوب کو ہر ایک ڈالر کی امداد کے بدلے چودہ ڈالر قرضوں کی واپسی اور منافع کی منتقلی کے نام پر کھونے پڑتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ کورونا وبا کے دوران لبرل جمہوریت کے نام پر چند ممالک نے ویکسین کے پیٹنٹ کو عالمی جنوب کے لیے روک دیا، جس کے نتیجے میں 13 لاکھ سے زائد قابلِ علاج اموات ہوئیں۔

انہوں نے ماحولیاتی ناانصافی پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں 80 فیصد کاربن کے اخراج کے ذمہ دار ترقی یافتہ ممالک ہیں، مگر اس کے اثرات غریب ممالک بھگت رہے ہیں۔ پاکستان جو عالمی کاربن کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، 2022 میں شدید ترین سیلاب کی زد میں آیا، جس سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، مگر عالمی برادری نے مدد کے بجائے قرضوں کو دوبارہ ترتیب دینے کی بات کی۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان پاکستان کا وہ جھومر ہے جس پر کوئی میلی نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا، احسن اقبال

ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی جمہوریت یا انصاف نہیں بلکہ طاقتور ممالک کا ایک ایسا نظام ہے جو دنیا میں استحصالی نظام کو مزید فروغ دے رہا ہے، آج خود لبرل جمہوریت کے گڑھ سمجھے جانے والے ممالک بھی شدید سیاسی و معاشی بحران، عدم استحکام اور عدم برداشت کا شکار ہو چکے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ نظام اپنی اصل بنیادوں پر ناکام ہو چکا ہے۔

احسن اقبال نے آکسفورڈ یونین میں اپنی دلیل کی طاقت، تاریخی حوالوں اور زمینی حقائق پر مبنی گفتگو کے ذریعے سامعین کو قائل کرلیا، جس کا ثبوت 180 کے مقابلے میں 145 ووٹوں سے ان کی جیت کی صورت میں سامنے آیا۔

آکسفورڈ یونین جیسے علمی اور سخت سوالات کی روایت رکھنے والے فورم پر کامیابی حاصل کرنا کسی بھی عالمی رہنما کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، مگر وزیر منصوبہ بندی نے اپنی مہارت، حقائق پر مبنی دلائل اور مدلل گفتگو کے ذریعے یہ کامیابی حاصل کی، جو پاکستان اور عالمی جنوب کے لیے ایک اہم سفارتی اور فکری جیت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک جائزہ اجلاس: سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے تمام وزارتیں تیاری مکمل رکھیں، احسن اقبال

احسن اقبال کی اس کامیابی نے انہیں ایک ایسے عالمی رہنما کے طور پر مزید مستحکم کیا ہے، جو نہ صرف ترقی پذیر ممالک کے حقوق کے سب سے مؤثر وکیل ہیں بلکہ عالمی نظام میں حقیقی اصلاحات کے لیے ایک طاقتور آواز بھی ہیں۔ ان کا یہ خطاب عالمی پالیسی سازوں، تحقیقی اداروں، اور دانشوروں کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دے چکا ہے کہ دنیا میں انصاف پر مبنی معاشی، سیاسی اور ماحولیاتی نظام کیسے قائم کیا جائے۔

وزیر منصوبہ بندی نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر جمہوریت، مساوات اور انصاف کے علمبردار ہیں۔ آکسفورڈ یونین میں ان کی کامیابی صرف ایک مباحثے میں جیت نہیں، بلکہ ایک نئے عالمی بیانیے کے قیام کی بنیاد ہے، جس میں عالمی جنوب کو مساوی حقوق اور خودمختاری دی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news احسن اقبال آکسفورڈ یونین کامیابی لبرل جمہوریت مکالمہ وفاقی وزیر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: احسن اقبال ا کسفورڈ یونین کامیابی لبرل جمہوریت مکالمہ وفاقی وزیر آکسفورڈ یونین احسن اقبال نے لبرل جمہوریت احسن اقبال ا وفاقی وزیر عالمی جنوب کے لیے ایک انہوں نے دنیا میں کہا کہ

پڑھیں:

دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی

سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا  اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔

وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے  ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک  میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔

پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے

2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں  نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف