190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا سنانے والے جج کو اہم عہدہ مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا سنانے والے جج کو اہم عہدہ مل گیا۔
احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ویسٹ تعینات ہوگئے، ناصر جاوید نے بطور جج احتساب عدالت 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنایا تھا۔چیف جسٹس ہائیکورٹ عامر فاروق کی منظوری کے بعد رجسٹرار نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔اس سے قبل جسٹس اعظم خان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تعینات تھے، جسٹس اعظم کی ہائیکورٹ تعیناتی کے بعد ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کے پاس سیشن جج کا عہدہ تھا۔
واضح رہے کہ 27 جنوری کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈریفرنس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کےخلاف اپیلیں خالد یوسف چوہدری کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائرکی گئی تھیں۔عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ نیب نے بدنیتی سے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور نامکمل تفتیش کی بنیاد پر جلد بازی میں سزا سنائی گئی۔
اپیل میں کہا گیا تھا کہ این سی اے سے معاہدے کا متن حاصل نہ کرنا تفتیشی ایجنسی کی ہچکچاہٹ کو واضح کرتا ہے، این سی اے حکام کو شامل تفتیش بھی نہیں کیا گیا اور استغاثہ مکمل شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی۔اپیل میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے سزا کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ہائیکورٹ احتساب عدالت کا 17 جنوری کا فیصلہ کالعدم قراردے اور دونوں کو بری کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ملین پاو
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔