عمران خان کو بنی گالہ، نتھیاگلی، وزیراعلی ہاس منتقل کرنیکی تجویز تھی، پیشرفت نہ ہوسکی: علی امین گنڈا پور کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
عمران خان کو بنی گالہ، نتھیاگلی، وزیراعلی ہاس منتقل کرنیکی تجویز تھی، پیشرفت نہ ہوسکی: علی امین گنڈا پور کا انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2025 سب نیوز
پشاور (سب نیوز )خیبرپختونخوا کے وزیراعلی علی امین گنڈاپور دعوی کیا ہے کہ عمران خان کو بنی گالہ، نتھیاگلی اور وزیراعلی ہاس منتقل کرنے کی تجویز تھی لیکن اس پر پیشرفت اب تک نہیں ہوسکی کیونکہ عمران خان چاہتے تھے ان کی منتقلی سے پہلے تمام کارکنوں کو رہا کیا جائے۔پشاور میں صحافیوں سے گفتگو میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھاکہ میں کام کیلیے نکلتا ہوں تو کشتیاں جلاکر نکلتا ہوں۔
24 نومبر فائنل کال احتجاج سے متعلق گفتگو میں انہوں نے بتایاکہ اسٹیبلشمنٹ کا پیغام تھا کہ احتجاج نہ کریں، اس سے لڑائی ہوگی، نقصان ہوگا، سنگجانی جانے پر بیرسٹرگوہر اور بیرسٹرسیف کی اسٹیبلشمنٹ سے بات ہوئی تھی، انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے براہ راست رابطہ کیا ہوا تھا، میں نے اپنا موبائل فون بند کیا ہوا تھا۔ان کا کہنا تھاکہ ان کی اور بانی پی ٹی آئی کی طرف سے یہ بات آئی، میں نے کہا ایسی کوئی بات ہے توبانی پی ٹی آئی خود اعلان کریں، میں نہیں کرسکتا، بانی پی آئی نے ہمیں خود کہاتھا کہ جب تک میں نہ کہوں، ڈی چوک ہی جانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سنگجانی میں بیٹھنے سے انکاری بشری بی بی کے کہنے پر نہیں تھے، میں نے کہا بانی پی ٹی آئی سنگجانی میں بیٹھنیکا اعلان خود کردیں، بانی پی ٹی آئی نے نہیں کہا تو ہمارا تو ہدف ڈی چوک تھا وہیں جانا تھا۔وزیراعلی نے دعوی کیا کہ ڈی چوک کے قریب پہنچا تو وہاں ہمارے 3 ورکرز کی لاشیں تھی،12 زخمی تھے، ان کو ہم نے نکالا اور میں وہاں رک گیا، میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو وہاں نہیں لے جانا چاہتا تھا جہاں گولیاں چل رہی ہوں، میں ان کو گولیوں کی زد میں کیسے لیکرجاتا؟ وہ میری ذمیداری تھے۔
رابطوں کے حوالے سے علی امین کا کہنا تھاکہ 4 اکتوبر کے بعد پہلی دفعہ باضابطہ رابطے شروع ہوئے، میرے عہدے کی وجہ سے رابطے ہوتے رہتے ہیں، میں خود بھی اپنا مدعا پیش کرتاہوں کیونکہ لیڈرجیل میں ہے۔انہوں نے کہا کہ تجویزتھی کہ اگر ہم بیٹھ کربات کریں تو اس کیلیے کھلا ماحول چاہیے، ظاہر ہے بانی پی ٹی آئی کیساتھ بیٹھ کر ہی معاملات حل ہونے ہیں تو میں نیکہا کہ بانی کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں تو یہ بہتر ہوگا، بانی کو بنی گالہ، نتھیاگلی، وزیراعلی ہاس منتقل کرنے کی تجویز تھی، یہ تجویز تھی لیکن اس پر پیشرفت اب تک نہیں ہوسکی کیونکہ عمران خان چاہتے تھے کہ ان کی منتقلی سے پہلے تمام کارکنوں کو رہا کیا جائے۔
وزیراعلی کا کہنا تھاکہ آمنیسامنے بیٹھ کر بات کرنیکیلیے میں نے یہ تجویز دی، ایسا نہیں ہیکہ بانی پی ٹی آئی خود وہاں جاناچاہتیہیں، بانی نے انکار کیا کہ جو بات کرنی ادھر کرلیں۔خیال رہے کہ 26 نومبر کو سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد مظاہرین سے خالی کرالیا، آپریشن شروع ہوتے ہی وزیراعلی کے پی علی امین گنڈا پور اور بشری بی بی موقع سے فرار ہوگئیں تھیں اور کارکن بھی بھاگ نکلے تھے۔ پولیس نے سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیراعلی ہاس منتقل کو بنی گالہ تجویز تھی علی امین
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.