Daily Ausaf:
2026-07-24@05:34:40 GMT

پانامہ کا سی پیک سے علیحدگی کا فیصلہ،امریکا کا خیرمقدم

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT

پانامہ(نیوز ڈیسک) امریکا نے پاناما کی جانب سے سی پیک بیٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے علیحدگی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک عظیم قدم قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو چین کے سی پیک منصوبے میں اپنی شرکت کی میعاد ختم ہونے پر اس سےعلیحدگی کے پاناما کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

یادرہے چینی صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے علیحدگی کا پاناما کا کوئی بھی اقدام واشنگٹن کی ایک جیت ہے۔ امریکا کا مؤقف تھا کہ بیجنگ اپنے عالمی اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے کے لیے “قرض کے جال کی سفارت کاری” کے لیے اسکیم کا استعمال کرتا ہے۔

مارکوروبیو نے اس ہفتے بطور وزیر خارجہ امریکا اپنا پہلا بیرونی ملک کا سفر پاناما کا کیا تھا ۔روبیو کے ساتھ بات چیت کے بعد، پاناما کے صدر جوز راؤل ملینو نے کہا کہ ان کے ملک کے چینی سی پیک میں شراکت کے وسیع معاہدے کی تجدید نہیں کی جائے گی، اور اسے جلد ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دو سے تین سال میں ختم ہونا تھا، لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی۔

وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاناما سے ایلوسلواڈور روانگی کے موقع پر سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ “صدر @ JoseRaulMulino کی طرف سے کل کا اعلان کہ پانامہ CCP کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو میں اپنی شرکت کی میعاد ختم ہونے دے گا، امریکا- پاناما تعلقات، ایک آزاد پاناما نہر، اور ہماری قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے @POTUS قیادت کی ایک اور مثال ہے۔ تاکہ ہم امریکی عوام کے لیے خوشحالی فراہم کریں،”

پاناما پہلا لاطینی امریکی ملک تھا جس نے نومبر 2017 میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سی پیک کی باضابطہ طور پر توثیق کی۔

دوسری طرف اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کانگ نے کہا کہ پاناما نے ایک “افسوسناک فیصلہ” کیا ہے۔

چین نے اس منصوبے پر مغربی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 100 سے زائد ممالک اس میں شامل ہو چکے ہیں، اور یہ کہ اس نے نئی بندرگاہوں، پلوں، ریلوے اور دیگر منصوبوں سے عالمی ترقی کو فروغ دیا ہے۔

فو نے نیویارک میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر امریکا اور کچھ دوسرے مغربی ممالک کی طرف سے شروع کی گئی مہم بالکل بے بنیاد ہے۔”

کینال آپریشنز:

امریکی خدشات طویل عرصے سے پاناما کینال کے قریب کچھ چینی کمپنیوں کے آپریشنز تک پھیلے ہوئے ہیں، جو 20ویں صدی کے اوائل میں ریاستہائے متحدہ نے بنائی تھی اور 1999 میں پاناما کے حوالے کی گئی تھی۔

ہانگ کانگ کی ایک فرم آبی گزرگاہ کے دونوں داخلی راستوں پر دو بندرگاہیں چلاتی ہے، جبکہ دو چینی سرکاری کمپنیاں نہر کے ایک داخلی راستے پر الگ الگ چوتھا پل بنا رہی ہیں۔

روبیو کے ساتھ بات چیت کے بعد، ملینو نے ہانگ کانگ میں مقیم سی کے ہچیسن ہولڈنگز کو دی جانے والی 25 سالہ رعایت پر نظرثانی کرنے پر آمادگی کا اشارہ دیا، جس کی 2021 میں دو داخلی بندرگاہوں کے آپریشن کے لیے تجدید کی گئی تھی۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا بیرون ملک جانیوالوں، طلبہ کو لیپ ٹاپ کیلئے قرض دینے کا فیصلہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کہا کہ سی پیک کے لیے

پڑھیں:

سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات آئینی عدالت سنے گی،نیب قانون میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ نیب مقدمات نہیں سن سکتی،نیب کے تمام مقدمات آئینی عدالت منتقل ہو گئے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سنایا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ