امریکا میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی پر بھارتی میڈیا کا واویلا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں گوما شہر کی جیل کو آگ لگائے جانے کے بعد سیکڑوں خواتین کی بے حرمتی کی گئی ہے اور اُنہیں جلاکر مار ڈالا گیا ہے۔ روانڈا کے حمایت یفتہ ایم ٹوئنٹی تھری باغیوں نے مشرقی شہر گوما کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اِس کے بعد جیل سے ہزاروں قیدی بھاگ نکلے۔ اس کے بعد شہر میں انتہائی درجے کا انتشار برپا ہوا اور جیل سے بھاگے ہوئے مجرموں نے شہریوں کا ناطقہ بند کردیا۔ سیکڑوں خواتین کو گھیر کر اُن کی بے حرمتی کی گئی اور پھر اُنہیں زندہ جلایا گیا۔
یہ تمام واقعات گزشتہ ہفتے کے ہیں۔ تب سے اب تک پورا شہر شدید خوف کی گرفت میں ہے۔ لوگ گھروں میں دُبکے ہوئے ہیں۔ سڑکوں پر اور گلیوں میں باغی گشت کر رہے ہیں۔ اُنہیں دیکھ کر شہری انتہائی خوفزدہ ہیں اور دکانیں، بازار کھولنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے حکام نے بتایا ہےی کہ گوما کی مُنزینزے جیل کے اندر قیدیوں نے سیکڑوں خواتین پر حملے کیے۔ گوما میں تعینات اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے نائب سربراہ ویوین وان ڈی پیرے نے بتایا ہے کہ جس وقت ہزاروں قیدی جیل سے فرار ہو رہے تھے تب خواتین کے بلاک کو آگ لگادی گئی۔
تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 27 جنوری کو مُنزینزے جیل کے احاطوں سے دھویں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے امن فوجی اب تک اس جیل کا معائنہ نہیں کرسکے ہیں۔ شہر کے حالات انتہائی خراب ہیں۔ لوگوں کو معمولات بحال کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔