افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں گوما شہر کی جیل کو آگ لگائے جانے کے بعد سیکڑوں خواتین کی بے حرمتی کی گئی ہے اور اُنہیں جلاکر مار ڈالا گیا ہے۔ روانڈا کے حمایت یفتہ ایم ٹوئنٹی تھری باغیوں نے مشرقی شہر گوما کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اِس کے بعد جیل سے ہزاروں قیدی بھاگ نکلے۔ اس کے بعد شہر میں انتہائی درجے کا انتشار برپا ہوا اور جیل سے بھاگے ہوئے مجرموں نے شہریوں کا ناطقہ بند کردیا۔ سیکڑوں خواتین کو گھیر کر اُن کی بے حرمتی کی گئی اور پھر اُنہیں زندہ جلایا گیا۔

یہ تمام واقعات گزشتہ ہفتے کے ہیں۔ تب سے اب تک پورا شہر شدید خوف کی گرفت میں ہے۔ لوگ گھروں میں دُبکے ہوئے ہیں۔ سڑکوں پر اور گلیوں میں باغی گشت کر رہے ہیں۔ اُنہیں دیکھ کر شہری انتہائی خوفزدہ ہیں اور دکانیں، بازار کھولنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے حکام نے بتایا ہےی کہ گوما کی مُنزینزے جیل کے اندر قیدیوں نے سیکڑوں خواتین پر حملے کیے۔ گوما میں تعینات اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے نائب سربراہ ویوین وان ڈی پیرے نے بتایا ہے کہ جس وقت ہزاروں قیدی جیل سے فرار ہو رہے تھے تب خواتین کے بلاک کو آگ لگادی گئی۔

تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 27 جنوری کو مُنزینزے جیل کے احاطوں سے دھویں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے امن فوجی اب تک اس جیل کا معائنہ نہیں کرسکے ہیں۔ شہر کے حالات انتہائی خراب ہیں۔ لوگوں کو معمولات بحال کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے