گوگل نے انسانوں کی طرح سوچنے والا نیا اے آئی ماڈل متعارف کرادیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 فروری2025ء)اے آئی ٹیکنالوجی کی دنیا میں تیزی سے ترقی جہاں سب کو حیران کر رہی ہے وہیں اب گوگل کی جانب سے حیرت انگیز طور پر انسانوں کی طرح سوچنے والا نیا اے آئی ماڈل متعارف کرایا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گوگل نے جیمنی 2.0 کے نام سے ایک نیا اے آئی ماڈل جاری کیا ہے۔ یہ ماڈل صارف کو بہتر جوابات دینے کے لیے سوالات کو چھوٹے مراحل میں تقسیم کر سکتا ہے۔
گوگل نے سوشل میڈیا صارفین کے لیے اپنا جدید ترین اے آئی ماڈل(جیمنی2.0)کے نام سے متعارف کرایا ہے، یہ ماڈل ڈیپ سیک اور چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی چیٹ بوٹس کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جیمنی 2.0 کے تین مختلف ماڈلز ہیں جن میں عام استعمال کے لیے جیمنی 2.0 فلیش، جدید کوڈنگ اور پیچیدہ کاموں کے لیے 2.0 پرو اور بجٹ کے موافق حل کے لیے 2.0 فلیش لائٹ ہے۔
(جاری ہے)
یہ تمام ماڈلز جیمنی ایپ، گوگل اے آئی اسٹوڈیو، اور اے آئی ورٹیکس پلیٹ فارمز کے ذریعے قابل رسائی ہیں۔گوگل کے مطابق اس نے یہ ماڈل متعارف کرانے میں تھوڑی تاخیر ضرور کی مگر ان کا ماڈل اس وقت دنیا میں سب سے بہتر ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ گوگل کا نیا جیمنی 2.0 فلیش تھنکنگ ماڈل اب کمپیوٹر اور موبائل ایپس دونوں پر استعمال کرنے کے لیے دستیاب ہے۔ اسے پہلی بار دسمبر 2024 میں متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد اوپن اے آئی اور ڈیپ سیک جیسی کمپنیوں کے دیگر جدید AI سسٹمز کا مقابلہ کرنا ہے۔اس کے علاوہ گوگل ایپس کے ساتھ Gemini 2.0 Flash Thinking Experimental کے نام سے ایک نیا ورژن بھی جاری کر رہا ہے۔ یہ ورژن گوگل کی دیگر سروسز جیسے یوٹیوب، گوگل سرچ، اور گوگل میپس کے ساتھ سوچ سکتا ہے اور کام بھی کرسکتا ہے۔ یہ جیمنی کو زیادہ مددگار اور ذاتی نوعیت کا اے آئی اسسٹنٹ بنا دے گا۔جیمنی کے دو نئے ورژن اب کمپیوٹرز اور موبائل آلات پر تمام صارفین کے لیے دستیاب ہیں۔ یہ ماڈلز پیچیدہ کاموں کو چھوٹے، آسان مراحل میں تقسیم کرکے کام کرتے ہیں۔ اس سے جیمنی کو مزید درست جوابات دینے میں مدد ملتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک