وزیراعظم شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمن کی رہائشگاہ آمد ، صحتیابی کی دعا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
اسلام آباد : وزیراعظم محمد شہباز شریف جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر گئے ان کی تیمارداری کی اور صحت کے لیے دعاکی۔
جمعرات کو وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم کی آمد اور نیک خواہشات پر شکریہ ادا کیا،ملاقات میں ملکی و سیاسی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف---فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا کردار واضح ہے، 2018ء میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی دوبارہ واپس لائی گئی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ حال ہی میں مستونگ میں سیشن جج کا قتل بھی دہشت گردی کی سنگین مثال ہے، دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوم نے مل کر کرنا ہے۔
انہوں نے افغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سر زمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے تاہم افسوس کے ساتھ کہا کہ افغان حکومت دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے جبکہ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں۔
انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی میں اہم کامیابیاں حاصل کیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے اور بلوچستان کے عوام نے قیامِ پاکستان اور وفاق کے استحکام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ شاہراہ کی تعمیر پر کام جاری ہے۔
این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا اور دیگر صوبوں نے بھی بھرپور تعاون کیا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے چاروں صوبوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گا۔
ورکشاپ کے شرکاء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی چاروں صوبوں کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہے اور اب ملک کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنے کا وقت آ گیا ہے۔