امریکی قونصلیٹ کی درخواست پر کارروائی، ویزا فراڈ کا مفرور ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
ملزم کاشف امین نے شہری کو 3 لاکھ 50 ہزار روپے کے عوض امریکی کمپنی اور پاکستانی کمپنی میں ملازمت کی دستاویزات فراہم کی تھیں۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی ائیرپورٹ پر جعلی دستاویزات کی بنیاد پر ویزا حصول میں ملوث مفرور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ ترجمان فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے مطابق ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کی کارروائی میں گرفتار ملزم کی شناخت کاشف امین کے نام سے ہوئی۔ ملزم فراڈ اور جعلی دستاویزات کی تیاری میں ملوث ہے۔ ملزم پر سال 2024ء میں جعلی سفری دستاویزات فراہم کرنے کا الزام پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق ملزم کاشف امین نے شہری کو 3 لاکھ 50 ہزار روپے کے عوض امریکی کمپنی اور پاکستانی کمپنی میں ملازمت کی دستاویزات فراہم کی تھیں۔
امریکی قونصیلٹ کراچی نے مذکورہ جعلسازی کی نشان دہی کی تھی۔ ملزم کے خلاف کارروائی امریکی قونصیلٹ کی درخواست پر کی گئی۔ ملزم گزشتہ سال سے مفرور تھا اور اس کا نام اسٹاپ لسٹ میں شامل تھا۔ ملزم گزشتہ روز کینیڈا سے کراچی پہنچا تھا، جہاں امیگریشن کے دوران اس کے کوائف آئی بی ایمز سسٹم میں ہٹ ہوئے۔ ملزم کو گرفتار کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔