Juraat:
2026-06-03@08:19:10 GMT

پورٹ قاسم،قومی شاہراہ پر انٹرچینج تعمیر کرنے میں ناکام

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT

پورٹ قاسم،قومی شاہراہ پر انٹرچینج تعمیر کرنے میں ناکام

 

اتھارٹی کوئلے ، سیمنٹ اور کنکرٹرمینل ، ہیوی ٹریفک کے لئے انٹرچینج تعمیر نہ کر سکی
انتظامیہ ٹریفک کی آسانی کے لئے سڑکوں کو چوڑا کرنے کی ذمہ داری سے غافل

پورٹ قاسم اتھارٹی قومی شاہراہ پر انٹرچینج تعمیر کرنے میں ناکام ہو گئی۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق پورٹ قاسم اتھارٹی کے ٹریفک اثرات پر جائزہ رپورٹ کے کلاز 4.

2.4میں تحریر ہے کہ پورٹ قاسم اتھارٹی پر کوئلے ، سیمنٹ اور کنکرٹرمینل کے لئے پورٹ قاسم اتھارٹی قومی شاہراہ این 5پر ہیوی ٹریفک کے داخل ہونے اور باہر جانے کے لئے انٹرچینج تعمیر کرے گی۔ افسران کا کہنا ہے پورٹ قاسم اتھارٹی کی انتظامیہ ٹریفک کے حوالے جامع پلان مرتب کرے گی تاکہ ٹریفک کی روانی جاری رہے ، آلودگی میں کمی ہو اور مالی طور پر فائدہ ہو، انتظامیہ کو اپریل 2020میں آگاہ کیا گیا لیکن اتھارٹی نے کوئی جواب نہیں دیا، پورٹ قاسم اتھارٹی انتظامیہ کو سفارش کی گئی کہ ڈیپارٹمنٹل ایکشن کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے لیکن ڈی اے سی کا اجلاس طلب نہیں کیا گیا، جس پر اعلیٰ حکام نے پورٹ قاسم اتھارٹی سے وضاحت طلب کی ہے کہ نیشنل ہائی وے پر پورٹ قاسم کی ٹریفک کے لئے انٹرچینج کیوں تعمیر نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ ٹریفک کی جائزہ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پورٹ قاسم انتظامیہ کو آنے اور باہر جانے والی ٹریفک کی آسانی کے لئے سڑکوں کو چوڑا کرنا ہے ، انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا لیکن سڑکوں کو چوڑا نہیں کیا گیا، جس پر اعلیٰ حکام نے سفارش کی ہے کہ آنے اور جانے والی سڑک کو چوڑا کیا جائے ۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

 کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ارکان پارلیمنٹ کی رہائش کیلیے فیملی سوٹس؛ بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان