اسلام آباد میں وکلا احتجاج کے دوران سینیئر قانون دان علی احمد کرد اور اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ افسران کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔

علی احمد کرد کا بڑی تعداد میں وکلا کے ساتھ پولیس افسران سے سامنا ہوا تو انہوں نے کہا کہ صبح سے ہماری اور پولیس کی آنکھ مچولی ہورہی ہے، سپریم کورٹ میں چھوٹے لوگ بیٹھے ہیں، ہائیکورٹ میں ہمارے دوست ہیں اب ہم اسلام آباد ہائیکورٹ جارہے ہیں۔

انہوں نے پولیس افسر سے کہا کہ جھگڑا نہ کریں، ہمارے نوجوانوں کے جوش و جذبے کا آپ کے لوگ مقابلہ نہیں کرسکیں گے، بدمزگی ہوئی تو ذمہ دار آپ ہیں ہم نہیں۔

علی احمد کرد نے کہا کہ جو اوپر بیٹھے ہیں ان سے پوچھیں، ہائیکورٹ ہماری جگہ ہے وہاں ہمیں جانے کیوں نہیں دے رہے، ہم پولیس لائن تو نہیں جارہے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ پولیس لائن بھی آجائیں، آپ ہمارے ہمارے مہمان ہوں گے، اس پر وکلا نے کہا کہ بغیر ایف آئی آر کے ہمیں دعوت دیں تو ضرور آجائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے زیراہتمام ہونے والے حالیہ احتجاج کے دوران بھارتی پولیس اور ‘ریپڈ ایکشن فورس’ کے تشدد، لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور مبینہ طور پر پیلٹ گن کے استعمال سے متعدد مظاہرین شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس اور بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کی رپورٹس کے مطابق، 20 جولائی کو نوجوانوں کے اس احتجاج کے دوران فورسز کے مبینہ پیلٹ گن کے استعمال سے زخمی ہونے والے کم از کم 4 افراد ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بیشتر طلبہ ہیں۔

طالب علم کی بینائی ضائع ہونے کا خدشہ

رپورٹس کے مطابق دہلی کے علاقے نجف گڑھ کے رہائشی اور ‘دہلی یونیورسٹی اسکول آف اوپن لرننگ’ کے 19 سالہ طالب علم سہیل لوچھب کی دائیں آنکھ میں پیلٹ لگنے سے وہ شدید زخمی ہوئے۔ 21 جولائی کو ‘آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز’ (AIIMS) میں ان کا آپریشن کیا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ سہیل کی دائیں آنکھ کی بینائی بحال ہونے کے امکانات صرف ایک فیصد ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق سہیل مستقبل میں پولیس افسر بننے کا عزم رکھتے تھے۔

حساس مقام پر پیلٹ پھنسنے سے نوجوان کی حالت تشویشناک

ایک اور افسوسناک واقعے میں 25 سالہ شیخ ارشاد منصوری شدید زخمی ہوئے۔ انہیں فوری طور پر ‘لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج’ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے جراحی کے بعد ان کے چہرے سے متعدد پیلٹس نکال لیے۔ تاہم، گردن کی شریان کے بالکل قریب انتہائی حساس مقام پر پھنسے ایک پیلٹ کو تاحال نہیں نکالا جا سکا، جس سے ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

حکام کی تردید اور تحقیقات کا آغاز

مظاہرین اور متاثرین نے پیلٹ گنز کے بے دریغ استعمال کا الزام سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے خصوصی یونٹ ’ریپڈ ایکشن فورس‘پر عائد کیا ہے، جسے مظاہرے سے نمٹنے کے لیے بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔

دوسری جانب، سیکیورٹی حکام نے مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم عوام اور میڈیا کے شدید ردِعمل کے بعد سی آر پی ایف انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے واقعے کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز ماضی میں پیلٹ گن کا استعمال زیادہ تر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے کرتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں نوجوانوں اور بچوں کی بینائی متاثر ہو چکی ہے۔ نئی دہلی کے مرکزی شہر میں اس کا استعمال ایک غیر معمولی اور شدید متنازع اقدام سمجھا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے