انجینئرز کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی تربیت کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
پاکستان انجینئرنگ کونسل کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ انجینئرز کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی تربیت شروع کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا۔
اجلاس کے دوران پاکستان انجینئرنگ کونسل کے حکام نے بریفنگ میں کہا کہ انجینئرز کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تربیت شروع کر دی گئی ہے، پہلے مرحلے میں 5 ہزار انجینئرز نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹریننگ میں شرکت کی، اس سال مزید 10 ہزار انجینئرز کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی تربیت دی جائے گی۔پی ای سی حکام نے مزید بتایا کہ انجینئرنگ کونسل کی جانب سے گرین بلڈنگ کوڈز تیار کیے گئے ہیں، جس سے توانائی کی بچت، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی، موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق میٹیریل تیار ہو رہا ہے، حکومتِ پاکستان کو لو کاسٹ ہاؤسنگ منصوبہ تیار کر کے دیا ہے، گلیات کے لیے بھی کم کاسٹ منصوبہ تیار کر کے دیا ہے۔
چیئرمین کمیٹی کامل علی آغا نے ہدایت کی کہ کم لاگت والے گھروں پر عام شہریوں کو آگاہی دی جائے۔
پاکستان انجینئرنگ کونسل کے حکام نے بتایا کہ انجینئرز کو گریجویشن کے دن ہی لائسنس دینے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، انجینئرنگ کونسل کی جانب سے گریجویٹ ٹریننگ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ پی ای سی کی جانب سے تربیت ملنے کے بعد بڑی تعداد میں انجینئرز کو انڈسٹری میں ملازمت ملی ہے، انجینئرنگ کونسل نے 850 فائنل ایئر پروجیکٹس کو فنڈ کیا، انجینئرنگ کونسل نے تعمیراتی تنازعات کے لیے آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کا نظام شروع کیا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آپ ایک ماہ میں اس سے متعلق رپورٹ تیار کر کے دیں، جامع رپورٹ آئے گی تو کابینہ تک بات پہنچائیں گے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انجینئرنگ کونسل کی تربیت حکام نے
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔