Nai Baat:
2026-07-24@13:45:10 GMT

جو بھی کہوں گا سچ کہوں گا….!

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT

جو بھی کہوں گا سچ کہوں گا….!

میرے ایک عزیز کل ہی مجھے بتا رہے تھے کہ ان کے ایک بھتیجے یورپین سفارتخانے میں کام کرتے ہیں، کہنے لگے کہ وہ بتاتا ہے، گورا ہر غلطی برداشت کرلیتا ہے، لیکن جھوٹ معاف نہیں کرتا۔ میں اپنے عزیز کی بات سن رہا تھا اور دل ہی دل میں ایک آہ بھر رہا تھا…. میں نے ایک ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا: یہ تو ہمیں بتایا گیا تھا….

یہ تعلیم تو ہمیں دی گئی تھی، یہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ مومن ہر برائی کا مرتکب ہو سکتا ہے، مومن جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ جس ہستی کے ہم نام لیوا ہیں، اس کا لقب ہی صادق اور امین ہے…. اور صادق اور امین کا یہ لقب ان لوگوں نے دیا تھا جو آپ پر ابھی ایمان بھی نہیں لائے تھے…. یعنی قبل از اعلانِ نبوت اہل مکہ آپ کو سچا اور دیانتدار کہتے تھے۔ جس رسول کی یہ شان کہ وہ قبل از اعلانِ نبوت بھی صادق اور امین کہلائیں، ان کے نام لیوا معاشروں میں جھوٹ بولنے کو ایک ایسا جرم ہی نہیں سمجھا جاتا جو قابلِ مواخذہ ہو…. سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ہمارا نصاب کیا ہے اور ہمارا کردار کیا ہے۔ کبھی کبھی ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے ہم اسلام پر بوجھ ہیں…. اسلام سچے لوگوں کا دین ہے، اسلام ہمیں اپنی جھولی میں ڈال کر پریشان ہے…. جھوٹے لوگ ایک سچے دین کو بدنام کر رہے ہیں۔ ہم جس دین کا کلمہ پڑھتے ہیں، اس کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ غیرلوگوں کے ہاں اسلام کا تعارف ہمارے ہی ذریعہ ہوتا ہے…. اور کیا ہی اچھا تعارف ہم پیش کر رہے ہیں۔
خدانخواستہ ایسی بات نہیں کہ سب جھوٹے ہیں، سوال یہ ہے کہ سب سچے کیوں نہیں؟ اکثریت ہی تعارف ہوا کرتی ہے۔ اچھوں میں برے ار بروں میں اچھے تو ہر قوم اور ہر خاندان میں ہوتے ہیں۔ تعارفی لہجہ اکثریت کا لہجہ ہوتا ہے۔
آخر ہمیں کیا افتاد آن پڑی کہ ہم سچ کو چھوڑ کر جھوٹ کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جھوٹ اور سچ میں سے ایک راستہ اختیار کرنا ہمارا اختیار ہے۔ مشکل اور آسان دونوں گھاٹیوں کا راستہ ہمیں دکھا دیا گیا ہے، اب یہ ہمارا اختیار ہے کہ ہم مشکل گھاٹی کا راستہ اپناتے ہیں، یا آسان گھاٹی میں لڑھکنا پسند کرتے ہیں۔ یہ وعدہ تو موجود ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے ، لیکن ہر آسانی کے بعد آسانی ہی میسر آتی رہے گی، اس کی
کوئی ضمانت نہیں۔ کامیابی محنت کرنے والوں کا انتظار کرتی ہے۔ راحت …. ابدی راحت…. جاگنے والوں کے حصے میں آتی ہے۔ آسان گھاٹی، شارٹ کٹ…. کامیابی کی طرف نہیں لے کر جاتی۔ حتمی اور دیرپا کامیابی سچ بولنے والوں کا نصیبہ ہوتی ہے۔ جب تک جسم اور روح دونوں شادمان نہ ہوجائیں، کامیابی نزدیک نہیں آتی۔ شائد ہم نے دولت ، شہرت اور منصب کو کامیابی سمجھ لیا ہے۔ جب تک انسان اندر تک اطمینان نہ پالے، اسے سکون میسر نہیں آتا…. اور اندر کے اطمینان کے لیے سچ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جھوٹ کی قسمت میں سکون نہیں۔ جھوٹ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا…. جھوٹ کے تو پاو¿ں ہی نہیں ہوتے۔
جھوٹ ایک شارٹ کٹ ہے…. اور شارٹ کٹ اپنانے والے اس پ±رلطف راستے کا منظر دیکھنے سے محروم ہو جاتے ہیں جو سچ کے مسافروں کا منظر ہوا کرتا ہے۔ جھوٹ کا راستہ اختیار کرنے والے جوڑ توڑ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں …. اور جوڑ توڑ کے ذریعے راستہ لینے والا کامیابی کی ٹرافی میں کئی حصے دار پیدا کر لیتا ہے۔ کامیابی کے پوڈیم پر ایک وقت میں ہی ایک شخص کھڑا ہو سکتا ہے۔
ہمیں ایک پرسکون معاشرہ قائم کرنے کا نصاب دیا گیا تھا۔ پرسکون معاشرہ وہی ہے جہاں انصاف گھر کی دہلیز پر میسر آ جائے، جہاں طاقتور قانونی اور اخلاقی طاقت کے آگے سر جھکا دے …. جہاں کمزور اگر حق پر ہو تو وہ طاقتور نظر آئے اور طاقتور اگر ناحق پر کھڑا ہو تو وہ کمزور دکھائی دے۔ ایک دوسرے کے لیے بے ضرر ہونا معاشرے کو پرسکون کرتا ہے۔ مسلمان ہونے کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ شخص مسلمان نہیں جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ نہیں۔ ایمان دار ہونے کی شرط یہ بتائی گئی ہے کہ وہ شخص ایمان دار نہیں جو امانت دار نہیں۔ دین دار ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ دین دینے والوں نے دین دار ہونے کی شرط یہ بتائی کہ وہ شخص دین دارہی نہیں جس میں ایفائے عہد نہیں۔ گویا امانت میں خیانت کرنے والا اور وعدہ توڑنے والا اپنے دین اور ایمان کا جائزہ لے کہ وہ کس منہ سے خود دین دار اور صاحبِ ایمان کہہ رہا ہے۔ مومن ہونے کا دعویٰ کرنے والا یہ دیکھے کہ مومن کی بارے میں واضح فرمایا گیا ہے کہ مومن جھوٹا نہیں ہوتا۔ اسلام، ایمان اور دین ایک فلسفہ محض نہیں، یہ کسی عمل کی تعلیم اور دعوت بھی ہے…. اسلام اور ایمان ایک حلف ہے، اور یہ حلف اٹھانے والے کو احساس ہونا چاہیے کہ وہ زندگی کے کسی موڑ پر اس حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب نہ ہوں۔
کتبِ احادیث میں ایک واقعہ درج ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص اسلام لانے کی غرض سے آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ! مجھ میں بہت برائیاں ہیں، اتنی برائیاں ہیں کہ میں سب کو دور نہیں کر سکتا۔ بس آپ کے کہنے پر صرف کوئی ایک برائی ترک سکتا ہوں۔ رسولِ کریم نے فرمایا: جھوٹ ترک کردو۔ اس نے وعدہ کر لیا۔ خوش نصیب ہے وہ جو وعدہ کرنے کے بعد وعدہ نبھانا بھی جانتا ہے۔ کچھ ہی عرصے میں معلوم ہوا کہ اس شخص سے ساری برائیاں ہی چھوٹ چکی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سی برائیاں ہیں، اتنی برائیاں کہ ہم شائد یک قلم نہ چھوڑ سکیں۔ اس حدیثِ پاک کی روشنی میں ہمیں بھی چاہیے کہ ہم صرف جھوٹ بولنا چھوڑ دیں۔ اگر ہم جھوٹ بولنا چھوڑ دیں تو ہماری زندگیوں میں ، ہماری کمایﺅں میں، ہمارے تعلقات میں اور ہمارے وقت میں برکت ہونے لگے گی۔ جب برکت آتی ہے تو انسان تعداد اور مقدار سے آزاد ہو جاتا ہے۔ سو قسم کے تعلق وہ قوت نہیں دیتے جو ایک سچا تعلق قوت عطا کر دیتا ہے۔ لاکھوں، کروڑوں زندگی میں وہ سہولت پیدا نہیں کرتے جو چند ہزار بڑی آسانی پیدا کر دیتے ہیں۔ زندگی میں برکت آ جائے تو انسان گوشہ نشینی میں کسی شہرت یافتہ ہیرو کی طرح لطف اندوز ہونے لگتا ہے۔
اے کاش! ہماری قوم سچ کی طاقت جان لے اور جھوٹ کی بے برکتی سے آگاہ ہو جائے۔ سچ کہنا ہمارا قومی فریضہ بھی اور دینی فریضہ بھی۔ ہم آج ہی خود سے یہ وعدہ کر لیں کہ سچ بولیں گے اور سچ سنیں گے…. اور سچ کے سوا کچھ اور نہیں کہیں گے۔ یہ جملہ صرف عدل کے ایوانوں ہی میں نہیں،بلکہ بھرے بازاروں، دفتروں، گھروں اور سیاست کے میدانوں میں بھی یہی نعرہ گونجنا ہونا چاہیے۔ سچ کی طاقت لازوال ہے ، جھوٹ کی کامیابی عارضی ہے…. اور ہم تو ہیں ہی دائمی زندگی کے طلب گار!…. ہمیں جھوٹ سے کیا کام! جھوٹ ہماری زندگی بھی برباد کر رہا ہے اور عاقبت بھی!! ہمیں جھوٹ سے دہرا نقصان ہو رہا ہے۔ وقنی فائدے کی خاطر ہمیشہ کا نقصان مول نہ لیں….گھاٹے کی تجارت نہ کریں!

ذریعہ

ذریعہ: Nai Baat

کلیدی لفظ: برائیاں ہی کا راستہ

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ