امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ خزانہ کو ایک سینٹ کے نئے سکے بنانے اور جاری کرنے سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ خزانہ کو ایک سینٹ کے نئے سکے بنانے اور جاری کرنے سے روک دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 12 February, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (شاہ خالد )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ خزانہ کو ایک سینٹ کے نئے سکے بنانے اور جاری کرنے سے روک دیا، پرانے سکے مارکیٹ میں موجود رہیں گے۔رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امر کا اعلان اپنی سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر کیا ہے۔انہوں نے پوسٹ میں کہا ہے کہ بہت طویل عرصے سے امریکا ایک سینٹ کے ایسے سکے بنا رہا ہے جن کی قیمت 2 سینٹ سے زیادہ ہے۔
یہ بہت فضول ہے،میں نے اپنے سیکرٹری آف یو ایس ٹریژری کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے سکوں کی پیداوار بند کر دیں۔ آئیے اپنے عظیم قوم کے بجٹ سے پیسے بچائیں ، چاہے وہ ایک پیسہ ہی کیوں نہ ہو۔رپورٹ کے مطابق پینی یا سینٹ کے سکہ کی پیداوار پر زیادہ لاگت گزشتہ ماہ ایلون مسک کے حکومتی کارکردگی کے محکمے DOGE کی جانب سے ایکس پر پوسٹ کیے جانے کے بعد اسے ختم کرنے کی تحریک چل رہی تھی۔امریکی میڈیا کے مطابق 2023 میں امریکی ٹکسال کا کہنا تھا کہ اس کی جانب سے 4 اعشاریہ1بلین مالیت کے ایک سینٹ کے سکے اس وقت امریکا بھر میں گردش میں ہیں ۔
مالی سال 2024 میں، امریکی ٹکسال نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ امریکی پینی کی پیداوار اور تقسیم پر تقریبا 3 اعشاریہ7سینٹ خرچ ہوتے ہیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔ جس کی وجہ زنک اور تانبے سمیت دھاتوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔2013میں، بروکنگ انسٹی ٹیوشن کی ویب سائٹ پر مطالبہ کیا گیا کہ امریکا میں نہ صرف ایک سینٹ کا سکہ بلکہ نکل جو سب سے کم قیمت کا سکہ ہے کی پیداوار کو بھی روک دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سینٹ کے کی پیداوار روک دیا
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔