ٹرمپ تاریخی دورے پر برطانیہ پہنچ گئے، شاہانہ استقبال، احتجاجی مظاہرے
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن:۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ برطانیہ کے تاریخی سرکاری دورے پر لندن پہنچ گئے، جہاں ان کا شاہانہ استقبال کیا گیا، برطانوی وزیراعظم کو دورے سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل ہونے کی امید ہے، ٹرمپ کے خلاف ونڈسر میں مظاہرے بھی کیے گئے، پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر اپنی اہلیہ کے ہمراہ تاریخی سرکاری دورے پر برطانیہ پہنچ گئے، لندن کے ایئرپورٹ سے ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا برطانوی شاہی خاندان کی رہائش گاہ وِنڈسر کیسل پہنچے، جہاں بادشاہ چارلس، ان کی اہلیہ کوئن کمیلا، ولی عہد شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیتھرین نے ان کا استقبال کیا، اس کے بعد قلعے کے احاطے میں ایک بگھی کی سواری ہوئی۔سب سے پہلے ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا کا استقبال بادشاہ کے بڑے بیٹے شہزادہ ولیم اور کیتھرین نے کیا، جنہیں صدر نے بہت خوبصورت کہا۔بعد میں بادشاہ چارلس اور کوئن کمیلا ٹرمپ جوڑے کے ساتھ بگھی کی سواری میں شامل ہوئے، جہاں راستے کے دونوں جانب 1,300 برطانوی فوجی اہلکار کھڑے تھے۔
صدر نے بادشاہ سے بات چیت اور مسکراہٹ کے تبادلے کے بعد سرخ یونیفارم اور بئیرسکن ہیٹس پہنے فوجیوں کا معائنہ کیا۔ ٹرمپ سینٹ جارج چیپل بھی جائیں گے جہاں ملکہ الزبتھ کی آخری آرام گاہ ہے، وہی ملکہ جنہوں نے 2019 میں ان کے پہلے سرکاری دورے پر ان کی میزبانی کی تھی، ٹرمپ وہاں ان کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائیں گے۔ ایک فضائی پریڈ بھی ہوگی جس میں برطانوی اور امریکی ایف35 فوجی طیارے شامل ہوں گے، جو امریکا-برطانیہ دفاعی تعاون کی علامت ہیں، اس کے بعد ایک شاندار ضیافت ہوگی جس میں بادشاہ اور صدر دونوں خطاب کریں گے۔
لندن میں برطانیہ کے سرکاری نشریاتی ادارے بی بی سی کے مرکزی لندن ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرین نے صدر ٹرمپ کے دورے کے خلاف احتجاج کیا، مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر No to Trump اور Stop arming Israel کے نعرے درج تھے۔خیال رہے کہ لندن میں اسٹاپ دی ٹرمپ کولیشن کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے 1600 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔دارالحکومت میں عام لوگ اس دورے کے بارے میں ملے جلے خیالات رکھتے ہیں، کچھ دعوت پر برہمی کا اظہار کر رہے ہیں تو کچھ اسے ہوشیار سیاست اور برطانیہ کی نرم طاقت کا اچھا استعمال سمجھ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ان کی اہلیہ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔