کوئٹہ (نیوز ڈیسک)ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان سے آج وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران صوبے کی مجموعی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں، امن و امان اور عوامی فلاح و بہبود کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے مربوط حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور عوامی خوشحالی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے تعلیم، ہنر مندی اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور تعاون فراہم کرے گی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ملاقات کے دوران ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، تعلیمی اصلاحات، صحت عامہ کی بہتری اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومتی اقدامات اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے جاری کاوشوں کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کیں۔

ملاقات میں گوادر پورٹ کی اہمیت اور اس کے خطے کی ترقی میں کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ گوادر پورٹ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کے مکمل فعال ہونے سے مقامی آبادی کے لیے بے شمار معاشی مواقع پیدا ہوں گے اور صوبے کی اقتصادی ترقی میں تیزی آئے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ گوادر پورٹ کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دی جائے تاکہ یہ بین الاقوامی تجارت کا مرکز بن سکے۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مدبرانہ حکمت عملی اور ملک گیر ترقیاتی ویژن کی بدولت بلوچستان میں ترقی کی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں اور ان کی قیادت میں وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھی جائیں گی اور صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت مل کر کام کریں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بلوچستان کے کے حل کے لیے گوادر پورٹ انہوں نے کی ترقی کہا کہ

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان