اسلام آباد:

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان حج اور عمرہ کی ادائیگی کیلئے تعاون بڑھانے، جدید عصری تعلیم کے فروغ کیلئے علماء کرام اور مدارس کے طلبا کے تبادلوں کو بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مذہبی امور اور مذہبی تعلیم کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی چوہدری سالک حسین اور ترکیہ کے مذہبی امور کے وزیر ڈاکٹر علی ارباش نے ایم او یو پر دستخط کیے۔

پاکستان اور ترکیہ نے حج اور عمرہ کی ادائیگی کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک شدت پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے۔

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان جدید عصری تعلیم کے فروغ کیلئے علماء کرام اور مدارس کے طلبا کے تبادلوں کو بڑھایا جائے گا۔ اماموں، خطیبوں اور مبلغین کی مہارتوں کو بہتر بنانے کے لیے تربیتی کورسز اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ انہیں سائنسی، مذہبی اور ثقافتی طور پر اہل بنایا جاسکے۔

 بین المذاہب ہم آہنگی اور عالمی امن کے فروغ اور عالم اسلام کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے دیگر مسلم ممالک کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے گا۔

اسلامی ثقافت کو پھیلانے اور اعتدال پسندی کے تصور کو فروغ دینے کے لیے مسلم ممالک کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جائیں گے۔ اسلامی ورثے اور ثقافت کو زندہ رکھنے اور محفوظ رکھنے کے لیے مطبوعات اور تحقیق کا تبادلہ کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اور ترکیہ کے درمیان جائے گا کے فروغ کے لیے

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف