رنویر الہٰ آبادیا یوٹیوب سے کتنا کماتے ہیں؟ ماہانہ آمدنی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT
بھارتی یوٹیوبر رنویر الہٰ آبادیا کی یوٹیوب کے ماہانہ آمدن سامنے آگئی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹی وی شو ’انڈیاز گوٹ لیٹنٹ‘ میں والدین سے متعلق متنازع بیان کی وجہ سے ان دنوں رنویر سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں اور لوگوں کو ان کی آمدنی سے متعلق بھی جاننے میں بےحد دلچسپی ہے۔
تاہم اب رنویر الہٰ آبادیا کی ماہانہ آمدن اور اثاثوں کی مجموعی مالیت سے متعلق تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق رنویر الہ آبادیا کی یوٹیوب کی ماہانہ آمدن قریب 40 ہزار ڈالرز ہے جبکہ سالانہ آمدن 40 لاکھ ڈالرز سے زائد ہے۔ ساتھ ہی ان کا آفس اور بنگلے، گاڑیاں بھی ان کے اثاثوں میں شامل ہیں۔
یاد رہے کہ رنویر الہ آبادیا نے پوڈ کاسٹ ’دی رنویر شو‘ سے شہرت حاصل کی اور اب ان کے فالوورز کی فہرست میں کئی مشہور شخصیات بھی شامل ہیں جبکہ وہ بالی ووڈ کے کئی بڑے اسٹارز کے ساتھ بھی پوڈ کاسٹ کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ماہانہ ا مدن رنویر الہ ا بادیا
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔