تحریک انصاف میں کوئی تقسیم نہیں ہے،شوکت یوسفزئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
پشاوراسلام آباد( مانیٹر نگ ڈ یسک ) رہنما پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف میں کوئی تقسیم نہیں ہے۔دنیا نیوز کے پروگرام ’’ٹونائٹ ود ثمرعباس‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں اختلافات نہیں ہے، پارٹی میں کسی کے آنے یا ناراض ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا ووٹ بینک ہے،پی ٹی آئی متحد ہے، عمران خان کال دیں گے تو سب باہرنکل آئیں گے، وہ جس کو
چاہیں جیل میں بلا سکتے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہیشیرافضل مروت باریکسی نے عمران خان کو مس گائیڈ کیا ہو، پارٹی میں سب ڈسپلن کے پابند ہیں۔شوکت یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ شیرافضل مروت کوبھی پارٹی ڈسپلن پرعمل کرنا چاہیے، تحریک انصاف میں کوئی تقسیم نہیں ہے، علی امین گنڈا پوراورجنید اکبرایک پیج پر ہیں، پارٹی کو چاہیے چھوٹیموٹے اختلافات کو ختم کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شوکت یوسفزئی تحریک انصاف پی ٹی ا ئی نہیں ہے
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں