ہفتے کے پہلے روز کاروبار حصص مندی کاشکار رہا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
کراچی(کامرس رپورٹر)نئے کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار حصص مندی کاشکار رہا اور کے ایس ای 100انڈیکس341پوائنٹس گھٹ گیا۔مندی کے سبب انڈیکس 112000پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے نیچے گر گیا ۔مندی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو 63ارب97کروڑ روپے سے زائد کاخسارہ برداشت کرنا پڑاجبکہ 54.02فیصد حصص کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر بینکنگ، پاور، سیمنٹ، ٹیلی کام،پیٹرول، انرجی، فارما اور دیگر سرگرم سیکٹڑ کے شیئرز میں نمایاں کاروباری سرگرمیاں دیکھی گئیں اورکاروبار کا آغاز مثبت ہوا تاہم پرافٹ ٹیکنگ کی خاطر بعض اسٹاکٹس میں فروخت کے دبائو سے مارکیٹ تنزی کا شکار ہو کر منفی زون میں چلی گئی اور کاروبار کے اختتام تک مارکیٹ مندی کی لپیٹ میں ہی رہی۔مندی کے باوجود کاروباری حجم گزشتیہ جمعہ کی نسبت 11.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔