چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے سیکریٹری کو تبدیل کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے سیکرٹری کو تبدیل کر دیا گیا۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ21 کے ایڈیشنل رجسٹرار مقصود احمد سیکریٹری ٹوچیف جسٹس تعینات کیے گئے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اس سے قبل نور محمد مرزا سیکرٹری ٹو چیف جسٹس فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نور محمد مرزا کوچیف جسٹس کا پرسنل اسٹاف افسر تعینات کر دیا گیا ہے۔
محمد یار ولانہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار تعیناتسابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد یار ولانہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار تعینات کردیے گئے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے محمد یار ولانہ کی تعیناتی کی منظوری دی، محمد یار ولانہ کی بطور رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ تعیناتی ایک سال کےلیے ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق محمد یار ولانہ چیف جسٹس
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔