لاہو ر(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی، مجلس قائمہ سیاسی قومی اُمور کے صدر لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں عالمی فلسطین کانفرنس کے مندوبین سے ملاقات میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل غزہ میں عارضی جنگ بندی کے خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ غزہ کی سرزمین ہڑپ کرنے کے لیے اپنا شیطانی کھیل شروع کرچکے ہیں۔ امریکی واسرائیلی شیطانی منصوبے کے سدباب کے لیے عالم اسلام کو اب تو متحد ہوجانا چاہیے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کا ظلم و جبر بڑھتا جارہا ہے، بھارت کے یکطرفہ اقدامات آزادی اور حق خودارادیت کے حصول کے راستے بند کرنے کے مترادف ہیں۔ عالمی اداروں اور عالم اسلام کو فلسطین و جموں و کشمیر کے لیے بیک وقت طاقت ور حکمت عملی بنانا ہوگی وگرنہ ہر مسلم ملک ایک ایک کرکے عالمی استعماری ظلم کا شکار ہوگا۔ پاکستانیوں کی رگ و پے میں کشمیریوں اور فلسطینیوں کی محبت رچی بسی ہے۔ اسلام آباد بین الاقوامی فلسطین کانفرنس نے اسلامی تحریکوں کا مضبوط موقف پیش کیا ہے۔ لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں پاکستان بزنس فورم کے صدر کاشف چودھری، جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر انجینئر نصراللہ رندھاوا اور اعلان گروپ کے سعید کھوکھر سے ملاقات، عشائیہ تقریب میں کہا کہ سیاست، صحافت، معیشت اور جمہوریت کو غیرذمے دارانہ رویوں کی وجہ سے زوال پذیر کردیا گیا ہے۔ آئین پر عملدرآمد اور سیاسی بحرانوں کے خاتمے، سیاسی استحکام کے لیے قومی سیاسی جمہوری قیادت کو قومی ڈائیلاگ کرنا ہوںگے، کچھ جماعتوں کے اتحاد سے نہیں قومی ترجیحات، قومی ایجنڈے پر قومی قیادت کا اتفاق ناگزیر ہے۔ معیشت کی بحالی کے لیے زراعت اور تعمیراتی سیکٹر کو اہمیت دینے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے دائرے میں رہتے ہوئے ریاست اپنی عیاشیاں، شاہ خرچیاں، کرپشن اور مفت خوری بند کرے اور اقتصادی پہیے کو رواں دواں رکھنے کے لیے ہر ترجیح اختیار کرے۔لیاقت بلوچ نے منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ استحصالی قوتوں کا سب سے بڑا ہدف انسانوں کو تقسیم کرنا، انسانوں کی آزادی اور جمہوری حقوق کو غصب کرنا اور ناجائز بنیادوں پر مٹھی بھر ناجائز طاقت ور گروہ کو انسانوں پر مسلط کرنا ہے۔ عوام کھلی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں کہ اشتراکیت، لبرل ازم اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام ناکام ہوچکا ہے۔ انسانوں کے حقوق کے شکاری استعماری اب مادر پدر آزادی، اباحیت، اخلاق باختگی اور فرسودہ قوم پرستی اور نفرتوں کے ذریعے انسانوں کو غلام بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی استحصالی قوتوں کو آئین کی پابندی،، قرآن و سنت کی بالادستی اور انسانی حقوق و وسائل کی منصفانہ تقسیم کی مزاحمتی جدوجہد سے شکست دے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد لیاقت بلوچ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن