ایلون مسک کے نئے غیر متوقع بیان نے انٹرنیٹ پر ایک نیا طوفان برپا کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے اور جدید ٹیکنالوجی کے سرخیل، ایلون مسک، اپنے حیران کن اور غیر متوقع بیانات کے لیے مشہور ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ویمپائر حقیقت میں موجود ہیں‘ اور ہوسکتا ہے کہ وہ امریکی حکومت سے مالی فوائد حاصل کر رہے ہوں۔
یہ سب اس وقت شروع ہوا جب ایلون مسک نے ایک سرکاری ڈیٹا شیٹ شیئر کی، جس میں حیران کن اعداد و شمار موجود تھے۔
ان کے مطابق، امریکی حکومت لاکھوں ایسے افراد کو سوشل سیکیورٹی کے تحت فنڈز دے رہی ہے، جن کی عمریں 100 سال سے زائد ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس ڈیٹا کے مطابق، تقریباً 20 ملین (2 کروڑ) افراد ایسے ہیں جن کی عمر 100 سال یا اس سے زیادہ ہے، اس میں 130 سال سے 139 سال کے 3.
یہ کیسے ممکن ہے؟
اگرچہ امریکہ کی کل آبادی تقریباً 335 ملین (33.5 کروڑ) ہے، لیکن امریکہ کی مردم شماری کے مطابق، 2020 میں 100 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد صرف 80 ہزار تھی۔ ایسے میں مسک کے پیش کردہ اعداد و شمار کا حقیقت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔
اس حیران کن تضاد پر تبصرہ کرتے ہوئے، ایلون مسک نے مذاقاً کہا، ’ہوسکتا ہے کہ ٹوائی لائٹ فلم سچ ہو اور حقیقت میں ویمپائر سوشل سیکیورٹی کے پیسے لے رہے ہوں۔‘مسک کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچ گیا۔ کچھ لوگوں نے اسے محض ایک مذاق سمجھا، لیکن کئی صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ درحقیقت ایک بڑا مالیاتی اسکینڈل ہوسکتا ہے۔
ایک صارف نے لکھا، ’اگر 100 سال یا اس سے زائد عمر کے 20 ملین افراد واقعی سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں، تو یا تو ہمارے پاس امر ہونے والے لوگ موجود ہیں، یا پھر یہ ایک بہت بڑا ڈیٹا کرپشن اسکینڈل ہے۔‘
دوسری جانب، امریکی حکومت کے ایک محکمے ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی کے سربراہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ سوشل سیکیورٹی میں رجسٹرڈ افراد کی تعداد امریکی شہریوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ان کے مطابق، اگر یہ ڈیٹا درست ہے تو یہ تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ثابت ہوسکتا ہے۔
حقیقت کیا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے سرکاری ریکارڈ میں ڈیٹا کی غلطیاں ہونا عام بات ہے، کیونکہ اکثر پرانے ریکارڈز کو اپ ڈیٹ نہیں کیا جاتا۔ تاہم، اگر واقعی لاکھوں ایسے افراد کو فنڈز مل رہے ہیں جو حقیقت میں موجود ہی نہیں، تو یہ امریکہ کے سوشل سیکیورٹی سسٹم کے لیے بہت بڑا مالی نقصان ثابت ہوسکتا ہے۔
ایلون مسک کا یہ بیان محض ایک مذاق تھا یا وہ واقعی کسی سنگین مسئلے کی نشاندہی کر رہے ہیں؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن ایک بات طے ہے، ان کی یہ تھیوری انٹرنیٹ پر ایک نیا طوفان برپا کر چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سوشل سیکیورٹی ملین افراد ایلون مسک موجود ہیں ہوسکتا ہے کے مطابق
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔