لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ نگران حکومت نے قانون کے مطابق چیئرمین نادرا کو تعینات کیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے چیرمین نادرا کو عہدے سے ہٹانے کا سنگل بنچ کا حکم کالعدم قرار دینے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، جسٹس چوہدری محمد اقبال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سولہ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔

فیصلہ  میں کہا گیا کہ نگران حکومت نے قانون کے مطابق چیئرمین نادرا کو تعینات کیا، نگران حکومت نے قانون میں دیے گے اختیارات کے تحت چیرمین نادرا کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

اس میں کہا گیا کہ منتحب وفاقی حکومت نے چیرمین نادرا کی تعیناتی کا دوبارہ مارچ میں نوٹیفکیشن کیا، درخواست گزار نے منتحب وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کو چیلنج نہیں کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ منتخب وفاقی حکومت نے چیئرمین نادرا کو مستقل تعینات کرنے کا بھی ایک نوٹیفکیشن کیا تھا،  وفاقی حکومت نے چیئرمین نادرا کی تعیناتی کے دو نوٹیفکیشن جاری کیے۔

اس میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے دونوں نوٹیفکیشن کا درخواست میں ذکر نہیں کیا، 
درخواست گزار کی درخواست کی  بنیاد حقائق کے برعکس ہیں، عدالت وفاقی حکومت کی اپیل کو منظور کرتی ہے،عدالت سنگل بنیچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نگران حکومت نے قانون چیئرمین نادرا کو وفاقی حکومت

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری