آفاق احمد کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
آفاق احمد— فائل فوٹو
مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔
کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی میں ٹرک جلانے کے مقدمات میں آفاق احمد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق آفاق احمد کے خلاف لانڈھی اور عوامی کالونی تھانے میں 2 مقدمات درج ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے چیئرمین ایم کیو ایم آفاق احمد کی 2 پر تشدد وارداتوں میں پولیس کسٹڈی ریمانڈ دینے سے انکار کر دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے درخواستِ ضمانت پر فیصلہ کل سنائے جانے کا امکان ہے۔
کیس کے پراسیکیوٹر کے مطابق آفاق احمد کے اکسانے پر لوگوں نے کئی گاڑیوں کو آگ لگائی۔
یاد رہے کہ آفاق احمد کو 11 فروری کی رات کلفٹن میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: آفاق احمد
پڑھیں:
این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
فائل فوٹو۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔
حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔