ریاض: وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو دورہ برطانیہ میں جو عزت ملی، تحریک انصاف والے چاہتے ہیں کہ اسے متنازع بنائیں۔
 ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر شرپسند عناصراب سوشل میڈیا پر چھوٹی چھوٹی مہمیں چلا رہے ہیں، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اوریہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ قانون حرکت میں آئے گا۔
وزیراطلاعات نے کہا کہ ملکی معیشت میں واضح بہتری آرہی ہے، معاشی اشاریے دن بدن بہتر ہو رہے ہیں، ترسیلات زر میں بھی 32 فیصد اضافہ ہوا ہے اور بیرون ملک پاکستانی بڑا اہم کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستان میں رقوم بھیج رہے ہیں، یہ ان کی پاکستان سے محبت ہے۔
 وزیر اطلاعات نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ترسیلات زر بھیج پر زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کر رہے ہیں، ویسے ہی ایک چھوٹا سا شرپسند ٹولہ ہے، جو پاکستان سے دشمنی کا کوئی موقع جانے نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ ٹولہ ہے، جس نے پاکستان میں انتشار پھیلایا، نفرتیں پھیلائیں، انہوں نے جناح ہاؤس کو آگ لگائی، یہ بھی نہیں دیکھا کہ یہ قائد اعظم کا گھر رہا، انہوں نے شہدا کی یادگاروں کو مسمار کیا، شہدا سے تو کسی کی کوئی دشمنی ہو نہیں سکتی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ تحریک انصاف والے ایسے بدبخت لوگ ہیں، انہوں نے 9مئی کے حملے، جس میں ان کے سرکردہ رہنما لیڈ کررہے تھے، ان کی ویڈیوز موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو دہشتگردوں کو پاکستان میں لے کر آئے، دہشتگردوں کو کہا کہ یہ پاکستان کے دوست ہیں، اور ان کو واپس لا کر پاکستان بسایا۔
   وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی  عمران خان کی تقریریں دیکھیں، وہ دہشت گردوں کی مکمل حمایت ہیں، انٹرنیشنل میڈیا پر ان کی تقاریر موجود ہیں، جس میں کہہ رہے ہیں کہ بڑے اچھے لوگ ہیں، ہم انہیں واپس پاکستان لا کر بسائیں گے۔
 انہوں نے سوال اٹھایا کہ اب دہشت گردی کے جو واقعات ہو رہے ہیں کیا یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ سب کچھ عمران خان کی وجہ سے ہو رہا ہے کیونکہ انہوں نے ریاست کی پالیسی کو تبدیل کر کے رکھ دیا اور دہشت گردوں کو ملک میں لے کر آئے۔
 وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ جو، جو پاکستان کو دشمن ہے، یہ اس کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں، کبھی ایک، دو، تین خط لکھتے ہیں۔
 انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر جب برطانیہ گئے تو رائل ملٹری اکیڈمی میں ان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور رائل ملٹری بینڈ نے وہاں پاکستان کا قومی ترانہ بجایا، ان کا وہاں پر والہانہ استقبال کیا گیا۔
  وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ جس طرح انہیں پاکستانی معیشت کی ترقی ہغم نہیں ہوئی، لگتا ہے کہ تحریک انتشار والوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی۔
 انہوں نے کہا کہ اب چیف آف آرمی اسٹاف کو جو عزت ملی ہے، اس کو یہ چاہتے تھے کہ متنازع بنائیں کیونکہ یہ پاکستان کے دشمنوں کا ایجنڈا ہے، سوشل میڈیا پر دیکھیں کہ جن لوگوں سے یہ ٹوئٹ کرواتے ہیں، سارے وہ ہیں جن کی آئیڈیالوجی پاکستان کے خلاف ہے۔
  وزیر اطلاعات نے کہاکہ مٹھی بھر شرپسند عناصر، جن کو آرمی چیف کا دورہ ہضم نہیں ہو رہا، وہ اب سوشل میڈیا پر چھوٹی چھوٹی مہمیں چلا رہے ہیں کہ ہم احتجاج کر رہے ہیں، پاکستانیوں نے اس کو مسترد کر دیا ہے۔
 انہوں نے کہا کہ یہ مٹھی بھر شرپسند عناصر کوئی کام نہیں کرتے، یہ سوشل سیکیورٹی کے پیسے پر پلتے ہیں اور پاکستان کے خلاف مہم چلاتے ہیں، یہ قانون کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں، قانون حرکت میں بھی آئے گا، کوئی بھی شخص جو پاکستان کی سالمیت اور بقا کے حوالے سے پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچائے گا، اس کے لیے قانون موجود ہیں اور یہ قانون کے شکنجے میں آئیں گے۔
  وزیر اطلات کا کہنا تھا کہ یہ جو مہم چلا رہے ہیں، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور ساتھ یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ قانون حرکت میں آئے گا، پاکستان کے عوام افواج پاکستان کے خلاف کھڑے ہیں۔
 انہوں نے کہا کہ جو لوگ سیاسی مقاصد کے لیے اس ایجنڈے کو لے کر چل رہے ہیں، مزید کہنا تھا کہ اپنے صوبے میں احتجاج نہیں کرتے جہاں تعلیم اور صحت دونوں متاثر ہیں، اب ان کو نظر آرہا ہے کہ پاکستان کی فوج کی عزت ہوئی ہے، اب اس کو چاہ رہے ہیں کہ کسی طریقے سے متنازع بنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا