مسلسل تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس لینا مسئلے کا حل نہیں، وفاقی وزیرخزانہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے ملک بے جا مراعات کا متحمل نہیں ہو سکتا، رائٹ سائزنگ کا مکمل پلان تیار کر لیا ہے،مینوفیکچرنگ، خدمات اورتنخواہ دارطبقہ پرٹیکسوں کا بوجھ غیرمتناسب ہے،زرعی انکم ٹیکس کے حوالہ سے پیش رفت خوش آئند ہے، مسلسل تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس لینا مسئلے کا حل نہیں ہے ، تنخواہ دار طبقے کے علاوہ باقی شعبہ جات کو بھی ٹیکس آمدن میں حصہ ڈالنا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں مقامی ہوٹل میں پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کے زیراہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی معیشت درست سمت میں جا رہی ہے، پالیسی ریٹ میں کمی سے کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کو فائدہ ہو رہا ہے جبکہ حکومت معیشت کے تمام شعبوں میں بنیادی اصلاحات کر رہی ہے، اصلاحات سے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا وزیراعظم اور ان کی ٹیم معاشی استحکام کیلئے پْرعزم ہے، رائٹ سائزنگ کے لیے مکمل پلان تیار کیا ہے، اداروں کے تمام معاملات کو دیکھ کرہی رائٹ سائزنگ کی جائے گی، نجکاری کے عمل کو مزید شفاف کر رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا ہمیں اپنے معاشی اہداف کا مکمل ادراک ہے، حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، پائیدار معاشی استحکام کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے، ملک بے جا مراعات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے کے علاوہ باقی شعبہ جات کو بھی ٹیکس آمدن میں حصہ ڈالنا ہوگا ، انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ معیشت میں زیادہ حصہ دار ہے لیکن ٹیکس میں اس کا حصہ کم ہے، ریٹیل سیکٹر معیشت میں بڑا حصہ رکھتا ہے لیکن ٹیکس میں کم ہے، ٹیکس کی چوری میں سخت فیصلے کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل ٹیکس چوری سے امور حکومت نہیں چلایا جاسکتے ہیں، سیلز ٹیکس کی چوری اور جعلی انوائس اب قابل قبول نہیں ہوگی، کاروباری طبقے کی بجٹ تجاویز ابھی سے وصول کر رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر کیے، شرح سود میں مسلسل کمی ہوئی، ملک کی معیشت درست سمت بڑھ رہی ہے، وزیراعظم معیشت کا رخ موڑنے کے لیے متحرک رہتے ہیں، حکومت معیشت کے عارضی نہیں بلکہ مستحکم فروغ کیلیے کوشاں ہے۔
وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ معاشی اصلاحات پر سختی سے عمل درآمد کر رہے ہیں، کسٹم کا نظام کئی دنوں سے کم کرکے 18 گھنٹے پر لائے، کسٹم کلیئرنس کے لیے رکاوٹیں دور کی ہیں، ٹیکس اصلاحات میں جدت کے لیے ٹرانس فارمیشن کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری اداروں کی اصلاحات پر رائٹ سائزنگ کررہے ہیں، سرکاری اداروں کی اصلاحات کی رائٹ سائزنگ پی ٹی آئی دور میں شروع ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ ہورہاہے،اس وقت دوماہ کی درآمدات کیلیے زرمبادلہ موجودہے،افراط زرکے حوالہ سے بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے،پالیسی ریٹ میں کمی آئی، کائیبورجو 23فیصدتک پہنچ چکا تھااب 11فیصد کی سطح پرآگیا ہے۔
وزیرخزانہ نے مزید کہا کہ ڈیٹ اورایکویٹی کے حوالہ سے بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے، بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ کے اداروں سے ہمارارابطہ ہے،کل ہم نے ریٹنگ ایجنسی فچ کے نمائندوں سے اچھی ملاقات کی ہے،گزشتہ ایک سال میں پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری آئی ہے اورانشاء اللہ اس سال بھی ہم سنگل بی کی کیٹگری حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سے پاکستان کوفنڈنگ کے ذرائع کومتنوع بنانے اوربین الاقوامی کیپٹل مارکیٹوں میں دوبارہ واپسی میں مدد ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تنخواہ دار طبقے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہنا تھا کہ کر رہے ہیں نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
لاہور: پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی ملازمتیں حاصل کرنے کے خواہشمند امیدواروں کے لیے خوشخبری سامنے آئی ہے۔ پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی (PEIMA) نے مختلف شعبوں میں 31 کنٹریکٹ بنیادوں پر آسامیوں کا اعلان کر دیا ہے، جہاں منتخب امیدواروں کو ماہانہ ایک لاکھ 50 ہزار روپے سے لے کر سات لاکھ 50 ہزار روپے تک تنخواہ دی جائے گی۔
اتھارٹی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق بھرتیاں ایڈمنسٹریشن، فنانس، پروگرامز، اکیڈمکس، ریسرچ، آئی ٹی، ڈیٹا مینجمنٹ، پارٹنرشپ، مانیٹرنگ اور دیگر اہم شعبوں میں کی جائیں گی۔ ان اسامیوں کے لیے تجربہ کار اور پیشہ ور امیدواروں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔
ڈائریکٹر سطح کے مختلف عہدوں کے لیے امیدوار کی عمر 35 سے 55 سال کے درمیان ہونی چاہیے جبکہ کم از کم 16 سالہ تعلیم اور متعلقہ شعبے میں 10 سال کا تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان عہدوں پر کامیاب امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ 7 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔
اسی طرح چیف آڈٹ آفیسر، ڈیٹا اینالسٹ اور ڈیٹا انجینئر کی بھی ایک، ایک آسامی دستیاب ہے۔ ان عہدوں کے لیے عمر اور تجربے کی الگ شرائط مقرر کی گئی ہیں تاکہ موزوں امیدواروں کا انتخاب کیا جا سکے۔
مزید برآں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن، فنانس، ٹریننگ، مانیٹرنگ اور دیگر شعبوں کی آسامیوں پر 2 لاکھ 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی گئی ہے، جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی اینڈ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے تنخواہ 3 لاکھ روپے ماہانہ رکھی گئی ہے۔ ان عہدوں کے لیے 16 سالہ تعلیم اور کم از کم 3 سال کا متعلقہ تجربہ ضروری ہوگا۔
اتھارٹی نے اسسٹنٹ اور اسسٹنٹ آئی ٹی کی متعدد آسامیوں کا بھی اعلان کیا ہے، جن کے لیے کم از کم ایک سال کا عملی تجربہ درکار ہوگا۔
تعلیمی قابلیت
درخواست دینے والے امیدواروں کے پاس ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے تسلیم شدہ ادارے کی ڈگری ہونی چاہیے۔ متعلقہ شعبوں میں بزنس ایڈمنسٹریشن، فنانس، اکاؤنٹنگ، پبلک ایڈمنسٹریشن، ایجوکیشن، سوشل سائنسز، کمپیوٹر سائنس، ڈیٹا سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر انجینئرنگ سمیت دیگر مضامین قابل قبول ہوں گے۔
درخواست کیسے جمع کرائیں؟
امیدوار پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے پنجاب حکومت کے سرکاری جاب پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ ڈاک، ای میل یا کوریئر کے ذریعے بھیجی گئی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔
سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں خدمات انجام دینے والے امیدواروں کو اپنے متعلقہ ادارے کے ذریعے درخواست جمع کرانا ہوگی اور ضرورت پڑنے پر این او سی بھی فراہم کرنا ہوگا۔