خوبصورت اداکارہ کرینہ کپور کو فلم ’دیوداس‘ میں ’’پارو‘‘ کے لیے سائن کیا جانا تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا تھا جس پر ادکارہ آپے سے باہر ہوگئی تھیں۔

فلم دیوا دس میں ان کی جگہ ایشوریہ رائے بچن کو کاسٹ کرنے پر کرینہ کپور سنجے لیلا بھنسالی سے ناراض ہوگئی تھیں۔

غصے میں آکر کرینہ کپور نے ہدایتکار سنجھے بھنسالی سے نہ صرف جھگڑا کیا بلکہ بدتمیزی بھی کی تھی۔

فلمی کیریئر کے اس موڑ پر کرینہ کپور نے فیصلہ کرلیا تھا کہ آئندہ کبھی بھی ہدایتکار سنجے بھنسالی کے ساتھ کام نہیں کریں گی۔

کرینہ کپور سنجے لیلا بھنسالی کو کنفیوز انسان بھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہدایتکار اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتے۔ ان کی کوئی اخلاقیات اور اصول نہیں ہیں۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ دیوداس سے نکالے جانے کے بعد میں اکثر راتوں کو اُٹھ کر روتی تھی۔ مجھے اسکرین ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد منع کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ہدایتکار سنجے لیلا کا کہنا تھا کہ جب کرینہ کا آڈیشن لیا تو ببیتا جی اور کرشمہ کپور بھی موجود تھیں، میں نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ کرینہ کو ہیروئن لوں گا۔

ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالی نے کہا کہ کرینہ کے فلم میں کاسٹ کرنے اور معاوضہ طے پا جانے کے سب دعوے بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: ہدایتکار سنجے کرینہ کپور

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع