چیف جسٹس پاکستان نے تحریک انصاف کو سسٹم کے اندر رہنے اور بائیکاٹ سے گریز کا مشورہ دیا، بیرسٹر گوہر کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پی ٹی آئی کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ چیف جسٹس نے پاکستان تحریک انصاف کو نظام کا حصہ بنے رہنے اور بائیکاٹ سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جمعہ کو چیف جسٹس سے ملاقات کرنے والے وفد میں شامل ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ جسٹس کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کو سپریم جوڈیشل کمیشن کے آخری اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ یہ اجلاس سپریم کورٹ میں عدالتی تقرریوں پر غور کیلئے طلب کیا گیا تھا۔ وفد کو بتایا گیا کہ اگر پی ٹی آئی کے ارکان اجلاس میں شریک ہوتے تو کچھ تقرریاں مختلف ہو سکتی تھیں۔ رابطہ کرنے پر پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے تصدیق کی کہ چیف جسٹس نے واقعی پی ٹی آئی کو نظام میں رہنے اور ججوں کی تقرری کے عمل کے بائیکاٹ سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ ملاقات میں شامل پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی اجلاس میں شریک ہوتی تو سپریم کورٹ کی بعض تقرریوں پر فرق پڑتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ چیف جسٹس کا پی ٹی آئی کو سسٹم کے اندر رہنے کا مشورہ پارٹی کی جانب سے سپریم جوڈیشل کمیشن کے آخری اجلاس کے بائیکاٹ کے حوالے سے تھا۔
انصار عباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کے کہ چیف جسٹس کا مشورہ
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔